بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی شخص کے کہے بغیر روضہ رسول پر اس کی طرف سے سلام پیش کرنا


سوال

 اگر کوئی شخص روضہ اقدس ﷺ پر حاضر ہو کر کسی ایسے شخص کی طرف سے سلام عرض کرتا ہے، جس نے اسے سلام کرنے کا نہیں کہا ہو، تو کیا یہ عمل جائز ہے؟ کیا یہ جھوٹ کے زمرے میں نہیں آئے گا، جب کہ اس نے اس شخص سے سلام کرنے کا کہا نہیں تھا؟ براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں؟

جواب

روضۂ اقدس ﷺ پر کسی کی طرف سےسلام پیش کرنے کا مطلب نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں اطلاع دینا ہے کہ ”فلاں شخص نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے۔“لہٰذا اگر کسی نے حقیقت میں سلام پیش کرنے کا نہ کہا ہو اور پھر بھی سلام پیش کرنے والا روضۂ اطہر پراس کی طرف سے یہ جملہ عرض کرے کہ ”فلاں شخص نے آپ کو سلام کہا ہے“، تو یہ خلافِ واقع بات کی اطلاع اور جھوٹ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں   ہے۔

البتہ  اس شخص کے کہے بغیر اس  کی طرف سے روضۂ اطہر پر حضور کی خد مت میں سفارش، دعا یا مغفرت کی درخواست کرنا جائز ہے،کیونکہ اس میں کوئی خلافِ واقع بات نہیں،  بلکہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں دعا و شفاعت کی نیت سے عرض کیا جاتا ہے۔

شعب الإيمان للبيهقي میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من صلى علي عند قبري وكل بها ملك يبلغني، وكفي بها أمر دنياه وآخرته، وكنت له شهيدا أو شفعيا " هذا لفظ حديث الأصمعي، وفي رواية الحنفي قال: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " من صلى علي عند قبري سمعته، ومن صلى علي نائيا أبلغته."

(باب في تعظيم النبي صلى الله عليه وسلم وإجلاله وتوقيره صلى الله عليه وسلم، ج:3، ص:141، رقم:1481، ط:مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:

"وتبلغه سلام من أوصاك به فتقول: السلام عليك يا رسول الله من فلان بن فلان يتشفع بك إلى ربك فاشفع له وللمسلمين.

قوله: "وتبلغه سلام من أوصاك" ذكروا أن تبليغ السلام واجب لأنه من أداء الأمانة."

 (‌‌فصل زيارة النبي صلى الله عليه وسلم، ص:749/748، ط:دارالكتب العلمية - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو قال لآخر: أقرئ فلانا السلام يجب عليه ذلك.

(قوله: يجب عليه ذلك) لأنه من إيصال الأمانة لمستحقها، والظاهر أن هذا إذا رضي بتحملها تأمل. ثم رأيت في شرح المناوي عن ابن حجر التحقيق أن الرسول إن التزمه أشبه الأمانة وإلا فوديعة اهـ. أي فلا يجب عليه الذهاب لتبليغه كما في الوديعة قال الشرنبلالي: وهكذا عليه تبليغ السلام إلى حضرة النبي صلى الله عليه وسلم عن الذي أمره به؛ وقال أيضًا: ويستحب أن يرد على المبلغ أيضا فيقول: وعليك وعليه السلام اهـ. ومثله في شرح تحفة الأقران للمصنف، وزاد وعن ابن عباس يجب اهـ. لكن قال في التتارخانية ذكر محمد حديثا يدل على أن من بلغ إنسانا سلاما عن غائب كان عليه أن يرد الجواب على المبلغ أولا ثم على ذلك الغائب اهـ. وظاهره الوجوب تأمل."

(فصل فی البیع، ج:6، ص:415، ط:دار الفكر- بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100238

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں