بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی سے کفریہ کلمات سننے کے باوجود خاموش رہنے کا حکم


سوال

میں نے ایک مستند عالمِ دین سے کافی عرصہ پہلے یہ بات سنی تھی کہ اگر کسی شخص کے سامنے کوئی دوسرا شخص کفریہ بات کہے، اور وہ شخص اُس وقت اُس کو اس بات سے روک سکتا ہو یا اس پر تنبیہ کر سکتا ہو، لیکن وہ خاموش رہے اور نہ روکے، تو اُس کا اپنا ایمان بھی زائل ہو جاتا ہے، اب مجھے وہ فتویٰ یا اس کی تفصیلات یاد نہیں ہیں تو براہ کرم اس کی وضاحت فراہم فرمائیں کہ کب  کسی کے کفر پر خاموشی اختیار کرنا ایمان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی کسی کو کلمہ کفر  کہتے ہوئے سنے تو اس پر اپنی استطاعت کے مطابق اس کو روکنا (اگر ہاتھ سے استطاعت ہو تو ہاتھ سے ورنہ زبان سے ورنہ دل سے بُرا سمجھنا) لازم ہے، اور دل سے بُرا جاننا یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے،   اگر کوئی کسی کو کلمہ کفر کہتےہوئےدیکھے اور قدرت ہوتے ہوئے اس بُرائی کو اپنے دل میں  بُرابھی نہیں سمجھتا ہو بلکہ اس پر راضی ہو تو ایسا شخص کافر ہوجاتا ہے اس کا ایمان باقی نہیں رہتا، لیکن اگر وہ قدرت کے باوجود اس کو منع نہیں  کرتا، لیکن اس پر راضی نہیں ہوتا، تو ایسا شخص کافر نہیں ہوگا، بلکہ ایسا شخص مسلمان ہی رہےگا، کیوں کہ وہ اپنی اس بے حسی اور قدرت کے باوجود بُرا نہ جاننے کی وجہ سے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا، اور گناہ کبیرہ یا ترکِ عمل کی وجہ سے آدمی کافر نہیں ہوجاتا۔

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃالمصابیح میں ہے:

"(‌فليغيره ‌بيده) أي: بأن يمنعه بالفعل بأن يكسر الآلات ويريق الخمر ويرد المغصوب إلى مالكه، (فإن لم يستطع) أي: التغيير باليد وإزالته بالفعل، لكون فاعله أقوى منه (فبلسانه) أي: فليغيره بالقول وتلاوة ما أنزل الله من الوعيد عليه، وذكر الوعظ والتخويف والنصيحة (فإن لم يستطع) أي: التغيير باللسان أيضا (فبقلبه) : بأن لا يرضى به وينكر في باطنه على متعاطيه، فيكون تغييرا معنويا إذ ليس في وسعه إلا هذا القدر من التغيير، وقيل: التقدير فلينكره بقلبه لأن التغيير لا يتصور بالقلب، فيكون التركيب من باب: علفتها تبنا وماء باردا. ومنه قوله تعالى: {والذين تبوءوا الدار والإيمان} [الحشر: 9] (وذلك) أي: الإنكار بالقلب وهو الكراهية (أضعف الإيمان) أي: شعبه أو خصال أهله، والمعنى أنه أقلها ثمرة، فمن غير المراتب مع القدرة كان عاصيا، ومن تركها بلا قدرة أو يرى المفسدة أكثر ويكرر ‌منكرا لقلبه، فهو من المؤمنين. وقيل: معناه وذلك أضعف زمن الإيمان، إذ لو كان إيمان أهل زمانه قويا لقدر على الإنكار القولي أو الفعلي، ولما احتاج إلى الاقتصار على الإنكار القلبي، أو ذلك الشخص المنكر بالقلب فقط أضعف أهل الإيمان."

(كتاب الآداب، باب الأمر بالمعروف، ج: 8، ص: 3208، ط: دارالفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومن يرضى بكفر نفسه فقد كفر، ومن يرضى بكفر غيره فقد اختلف فيه المشايخ رحمهم الله تعالى في كتاب التخيير في كلمات الكفر إن رضي بكفر غيره ليعذب على الخلود لا يكفر، وإن رضي بكفره ليقول في الله ما لا يليق بصفاته يكفر، وعليه الفتوى كذا في التتارخانية."

(كتاب السير، الباب التاسع،ج: 2، ص: 257، ط: دارالفکر)

شرح العقائد النسفیہ میں ہے:

"أن الكبيرة التي هي غير الكفر لا تخرج العبد المؤمن من الإيمان لبقاء التصديق الذي هو حقيقة الإيمان... ولا تدخله أي العبد المؤمن في الكفر...ومجرد الإقدام علی الكبيرة؛ لغلبة شهوة أو حمية أو أنفة أو كسل، خصوصاً إذا اقترن به خوف العقاب ورجاء العفو و العزم علی التوبة، لا ينافيه. نعم إذا كان بطريق الاستحلال والاستخفاف كان كفراً؛ لكونه علامة للتكذيب.ولا نزاع في أن من المعاصي ما جعله الشارع أمارةً للتكذيب، وعلم كونه كذلك بالأدلة الشرعية، كسجود الصنم وإلقاء المصحف في القاذورات والتلفظ بكلمات الكفر، و نحو ذلك مما ثبت بالأدلة أنه كفر."

(بيان أن الكبيرة لا تخرج عن الإيمان، ص: 264۔265 ط: بشري)

مظاہرِ حق میں ہے:

"بعض حضرات نے حدیث کے اس آخری جملہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ یہ چیز یعنی کسی برائی کو دیکھ کر محض دل میں اس کو برا سمجھنے پر اکتفا کرلینا ایمان کے مراتب میں سب سے کمزور مرتبہ ہے کیوں کہ اگر کوئی مسلمان ایسی چیز دیکھے کہ جس کا دینی نقطہ نظر سے برا ہونا قطعی طور پر ثابت و ظاہر ہو اور وہ اس چیز کو برا بھی نہ سمجھے بلکہ اس پر اپنے اطمینان کا اظہار کرےاور اس کو اچھا جانے تو مسلمان نہیں رہےگابلکہ کافر ہوجائے گا۔"

(کتاب الآداب، امر بالمعروف کا بیان، ج: 4، ص: 605، ط: مکتبة العلم)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100477

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں