
کچھ مخیر حضرات زکاۃ دہندہ نے مجھے زکاۃ تقسیم کرنے کا وکیل مقرر کیا ہے، کچھ حضرات رمضان سے ۱۵ دن یا ہفتہ پہلے زکاۃ تقسیم کرنے کے لیے رقم دیتے ہیں اورکچھ لوگ بعد میں دیتے ہیں، اور ایک دو حضرات نے ماہانہ زکاۃ دینے کے لیے گھر مقرر کیے ہوئے ہیں، وکیل اپنے پاس سے ان گھرانوں میں زکاۃ تقسیم کرتا ہے، وکیل چھ ماہ بعد ان سے رقم لیتا ہے۔
آیا زکاۃ دہندہ کو زکاۃ کی رقم پہلے دینی چاہیے یا بعد میں؟
وکیل اپنے پاس سے زکاۃ کی رقم تقسیم کرتا ہے، اور پھر ۶، ۸ ماہ بعد زکاۃ دہندہ سے رقم لیتا ہے، تو یہ طریقۂ کار درست ہے یا نہیں؟
بصورتِ مسئولہ بہتر طریقہ تو یہی ہےکہ اپنے مال میں سے ایک حصہ بطورِ زکاۃ الگ کرنے کے بعد کسی وکیل کو دے دیا جائے، اور وہ اسی مال کو مستحقین میں تقسیم کردے۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنی زکاۃ کی رقم دوسرے کو دیئے بغیر ہی زکاۃ تقسیم کرنے کا وکیل بنادے، اور وہ وکیل اپنی رقم سے صاحبِ مال کی نیت سے زکاۃ ادا کردے، اور پھر بعد میں اتنی رقم صاحبِ مال سے وصول کرلے تو یہ بھی جائز ہے، اس سے زکاۃ ادا ہو جائے گی۔
البحر الرائق میں ہے:
"ولو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز؛ لأنها وجدت نفاذا على المتصدق؛ لأنها ملكه، ولم يصر نائبا عن غيره فنفذت عليه. ولو تصدق عنه بأمره جاز ويرجع بما دفع عند أبي يوسف وإن لم يشترط الرجوع كالأمر بقضاء الدين، وعند محمد لا رجوع له إلا بالشرط."
(كتاب الزكاة، شروط أداء الزكاة، ٢/ ٢٢٧، ط: دار الكتاب الإسلامي)
رد المحتار على الدر المختار میں ہے:
"ولو تصدق بدراهم نفسه أجزأ.
(قوله ولو تصدق إلخ) أي الوكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم الموكل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم الموكل صح . . . وفيه إشارة إلى أنه لا يشترط الدفع من عين مال الزكاة، ولذا لو أمر غيره بالدفع عنه جاز."
(كتاب الزكاة، ٢/ ٢٦٩، ط: سعيد)
فقط والله تعالى أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100608
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن