
میں نے اپنی بیوی کوطلاق دی ہے، ان لوگوں پر میرے کچھ حقوق ہیں، یعنی انہوں نے میرے پیسے دینے ہیں، اب جب میں مطالبہ کرتا ہوں تو وہ لوگ سب کو کہتے ہیں کہ یہ کافر ہے، اور کافر کی اولاد ہے، حالانکہ میں مسلمان، میرے والد صاحب مسلمان اور ہمارا خاندان مسلمان ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ان کا یہ عمل شرعاً جائز ہے؟
واضح رہے کہ کسی بھی مسلمان پربغیرکسی شرعی دلیل کے کافرہونے کاحکم لگانا یا کافر سے تشبیہ دینا،سخت گناہ اورحرام ہے،ایمان کے لئے بھی خطرناک ہے،اس سےکہنے والے آدمی کااپنادین وایمان سلامت نہیں رہتا،بہر حال اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو گالی کے طور پر کافر کہے تو اس سے کہنے والا کافر تو نہیں ہوگا، البتہ ایسا شخص کبیرہ گناہ اور حرام کا مرتکب شمارہوگا، اور اگر ایسے مسلمان کو کافر سمجھ کر کافر کہا جس میں کفر کی کوئی بات نہ پائی جاتی ہو تو کہنے والا خود ایمان سے محروم ہوجائے گا۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ لوگوں کا سائل پر بغیر کسی شرعی دلیل کے کفر کا الزام لگانا اور معاشرے میں اس کے بارے میں سب کو کہنا کہ یہ کافر ہے،ان ایمان کے لیے خطرناک ہے، انہیں چاہیے کہ اپنے اس عمل پر صدق دل سے توبہ و استغفار کریں ۔
نیز واضح رہے کہ قرض کی ادائیگی کی قدرت ہونے کے باوجود قرض ادا نہ کرنا اور اس میں ٹال مٹول کرنا شرعاً ظلم اور ناجائز ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ:”قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے والے کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔“لہذا اگر انہوں نے واقعۃً سائل کے پیسے دینے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ پیسے ادا کریں، ورنہ کسی کا حق کھانے کی وجہ سےوعیدات کے مسستحق ہوں گے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن ابن عمر؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:إذا كفر الرجل أخاه فقد باء بها أحدهما."
ترجمہ:" حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پر کفر لوٹ گیا یعنی یا تو کہنے والا خود کافر ہوگیا یا وہ شخص جس کو اس نے کافر کہا ہے۔"
( صحیح مسلم،ج:1،ص:79، ط:دار التراث العربی)
بخاری شریف میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: مطل الغني ظلم، فإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع."
(كتاب الحوالات، باب في الحوالة، ج:2، ص:799، ط:دار ابن كثير)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو قال لمسلم أجنبي: يا كافر، أو لاجنبیة يا كافرة، ولم يقل المخاطب شيئا، أو قال لامرأته: يا كافرة، ولم تقل المرأة شيئا، أو قالت الْمرأة لزوجها: يا كافر ولم يقل الزوج شيئا كان الفقیه أبو بكر الاعمش البلخي يقول: يكفر هذا القائل، وقال غيره من مشايخ بلخ رحمهم الله تعالى: لايكفر، والمختار للفتوى في جنس هذه المسائل أنالقائل بمثل هذه المقالات إن كان أراد الشتم ولايعتقده كافرا لايكفر، وإن كان يعتقده كافرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر، كذا فی الذخيرة."
( كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدين، مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام،ج:2، ص:278، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100236
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن