
اگر کوئی بندہ کسی مسلم کو کافر یاہندو ، قادیانی کہتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
شرعاً کسی کافر کو بھی بلاوجہ کافر کہنادرست نہیں ،نیز کسی مسلمان کو جان بوجھ کر کافر یاہندو یا قادیانی کہنا بدرجہ اولیٰ گناہ و حرام ہے، اور اسی طرح لفظ کافر کہنے والےکے لیے دین سے خارج ہونے کا خطرہ ہے ، اور کہنے والے پر توبہ و استغفار لازم ہے، لہذا اس طرح کے کلمات کہنے سے مکمل طور پر اجتناب کریں۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن ابن عمر؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:إذا كفر الرجل أخاه فقد باء بها أحدهما."
ترجمہ:" حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پر کفر لوٹ گیا یعنی یا تو کہنے والا خود کافر ہوگیا یا وہ شخص جس کو اس نے کافر کہا ہے۔"
( صحیح مسلم،ج:1،ص:79، ط:دار التراث العربی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو قال لمسلم أجنبي: يا كافر، أو لاجنبیة يا كافرة، ولم يقل المخاطب شيئا، أو قال لامرأته: يا كافرة، ولم تقل المرأة شيئا، أو قالت الْمرأة لزوجها: يا كافر ولم يقل الزوج شيئا كان الفقیه أبو بكر الاعمش البلخي يقول: يكفر هذا القائل، وقال غيره من مشايخ بلخ رحمهم الله تعالى: لايكفر، والمختار للفتوى في جنس هذه المسائل أنالقائل بمثل هذه المقالات إن كان أراد الشتم ولايعتقده كافرا لايكفر، وإن كان يعتقده كافرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر، كذا فی الذخيرة."
( كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدين، مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام، ٢ / ٢٧٨، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100632
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن