بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کو ملازمت دلوا کر ہر ماہ اس کی تنخواہ میں سے کمیشن لینے کا حکم


سوال

میں ایک سرکاری کالج میں شاپ اسسٹنٹ کے عہدے پر ملازم ہوں۔اپائنٹمنٹ لیٹر اور تمام کاغذات میرے نام پر ہیں، اور تنخواہ براہِ راست میرے ذاتی اکاؤنٹ میں آتی ہے، میری ماہانہ تنخواہ 43,800 روپے ہے، جس میں سے 12,600 روپے میں انسٹرکٹر صاحب کو دیتا ہوں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب میں ملازمت کی تلاش میں تھا تو انسٹرکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ اس کالج میں ایک سیٹ خالی ہے اور کہا کہ: ”آپ یہاں ملازمت کے لیے درخواست دیں، میں آپ کے لیے کوشش کروں گا۔“ اسی وقت انہوں نے مجھ سے یہ طے کر لیا تھا کہ میں ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے کچھ حصہ انہیں دوں گا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ اس لیے کر رہے ہیں کہ ان کی تنخواہ کم ہے، یہ سب پرنسپل صاحب اور کلرک صاحب کے علم و  مشورے سے ہوا۔ کلرک صاحب کا کہنا ہے کہ اس طرح ایک بے روزگار کو روزگار مل گیا ہے اور انسٹرکٹر صاحب کی آمدنی بھی بڑھ گئی ہے۔

یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ انسٹرکٹر صاحب نے صرف مجھے یہ بتایا تھا کہ اس کالج میں ایک سیٹ خالی ہے، باقی تمام کارروائی، درخواست دینا اور تقرری کے مراحل، میں نے خود مکمل کئے تھے۔

میرا سوال یہ ہے کہ:

  1. انسٹرکٹر صاحب کا میری تنخواہ سے پیسے لینا اور میرا انہیں دینا، جبکہ میں اس پر راضی بھی نہیں ہوں، کیا یہ جائز ہے؟

  2. کیا پرنسپل اور کلرک کا اس بات سے باخبر ہونا، اس معاملہ کو حلال بنا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص ملازمت کے امیدوار سے پہلے ہی معاہدہ کرکے اجرت طے کرے اور عملی اقدام کرکے مدد بھی کرے (مثلاً کسی کمپنی یا مالک کے پاس جا کر اس امیدوار کے لئے ملازمت کی بات چیت اور کوشش کرے)  تو  ایسی صورت میں ملازمت دلوانے کے عوض اجرت متعین کرنا جائز ہے،لہٰذا ملازمت دلوانے کے بعد متعینہ اجرت لینا درست ہوگا، لیکن یہ اجرت صرف ایک مرتبہ لینا جائز ہے، ملازمت دلواکر ملازم کی تنخواہ میں سے ہر ماہ مستقل طور پر فیصد کے حساب سے کمیشن لینا شرعاً درست نہیں ہوگا، البتہ اگر کوئی شخص صرف سفارش کرے یا محض راہ نمائی کرے اور ملازمت دلوانے کے لئے عملی طور پر کوئی کام نہ کرے، تو ایسی صورت میں اس کے لئے اجرت لینا بالکل جائز نہیں ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ انسٹرکٹر صاحب نے صرف سفارش یا راہ نمائی کی ہے اور ملازمت دلوانے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا، اس لئے ان کے لیے اس کام کے عوض ایک مرتبہ کمیشن لینا بھی شرعاً درست نہیں ہے، خواہ پرنسپل اور کلرک اس معاملے سے باخبر ہوں یا نہ ہوں ۔  

فتاویٰ شامی میں ہے:

"إن دلني على كذا فله كذا فدله فله أجر مثله إن مشى لأجله.(قوله إن دلني إلخ) عبارة الأشباه إن دللتني. وفي البزازية والولوالجية: رجل ضل له شيء فقال: من دلني على كذا فهو على وجهين: إن قال ذلك على سبيل العموم بأن قال: من دلني فالإجارة باطلة؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه: إن دللتني على كذا فلك كذا إن مشى له فدله فله أجر المثل للمشي لأجله؛ لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل، وإن دله بغير مشي فهو والأول سواء. قال في السير الكبير: قال أمير السرية: من دلنا على موضع كذا فله كذا يصح ويتعين الأجر بالدلالة فيجب الأجر اهـ."

(كتاب الإجارة، باب فسخ الإجارة، مطلب ضل له شيء فقال من دلني عليه فله كذا، ج:6، ص:95، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703102270

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں