
(1)فقہ حنفی کے ایک مفتی ہیں،ہے میں نے یوٹیوب پر اُن کی ویڈیو دیکھی، مفتیِ صاحب سے کسی نے سوال پوچھا کی اگر کوئی شخص ہمارے سامنے کُفرِیہ الفاظ بولتا ہے تُو کیا ہم پر واجب ہے کی اُس کو بتائیں اور اُس سے توبہ اور تجدیدِ ایمان کروائیں۔تُو مفتیِ صاحب نے جواب دیا کی آگر آپ کو یقین ہے کی وہ آپ کی بات مانےگاا اصلاح قبول کرےگا توبہ اور تجدیدِ ایمان کر لےگا تُو آپ پر فرض ہے کی آپ اُسے بتائیں اور آگر آپ نہیں بتائیں گے تُو آپ بھی گئے۔ انہوں نے وجہ یہ بتائی کہ آپ اس کو نہیں بتا رہے ہیں حالاں کہ آپ کو پتا ہے کہ وہ اصلاح قبول کرےگا گویا کے آپ اُس کے کُفر پر راضی ہو گئے، پھر آپ کو بھی تجدیدِ ایمان کرنا ہوگا، یہ جواب مذکورہ مفتی صاحب نےدیا۔
یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد کافی پریشان ہوں، کیا یہ بات صحیح ہے کی کوئی شخص ہمارے سامنے کُفریہ الفاظ نکالے اور ہم اُسے نہیں بتائیں تُو ہم بھی گئے اور پھر ہمیں بھی تجدیدِ ایمان کرنا ہوگا؟
(2) میں آپ کے دارالافتاء کے فتاویٰ اور دارلعلوم دیوبند کے فتاویٰ پڑھتا رہتا ہوں، کُفریہ الفاظ اور اُن کے احکامات پرکتاب بھی پڑھا ہوں، اب مُجھے میرے تین چار دوست کے بولے ہوئے غلط الفاظ جن میں کُفر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، یاد آرہے ہیں، جو میرے سامنے ہی بولے گئےتھے، لیکن پورا جُملہ یاد نہیں آرہا ہے جومیں آپ کو لکھ کر بھیجوں،نيز جب کبھی کسی دوست سے ایسے الفاظ سنے تومجھے احساس بھی ہوا کہ یہ کُفریہ الفاظ ہو سکتے ہیں، لیکن پھر بھی میں نے کُچھ نہیں کہا کیوں کہ میں کوئی مفتی نہیں ہوں، اور یہ مسلئہ بہت نازک ہے۔
ایسے ہی ایک دفعہ کچھ دن پہلے ایک دوست کے منہ سےکوئی غلط لفظ سنا، تو میں نےاُسے تھوڑی دیر بعد کہا کہ تمہاری زبان سے غلط لفظ نکل گیا ہے، تم توبہ کرکے احتیاطاً تجدیدِ ایمان کرلو تووہ کہنے لگا کون سا لفظ نکلا ہے؟ مُجھے یاد نہی تم بتاؤ! پھر میں نےوہ الفاظ بول کر اُسے بتایا وہ الفاظ بتاتے ہوئے مُجھے بہت تکلیف ہوئی، تُو وہ کہتا ہے مُجھے یاد نہیں ہے کہ میں نےایسا کچھ بولا ہو یا کچھ اور بولا ہو۔ اب مجھے سمجھ نہیں آتا ہے میں کیا کروں کیانہیں، مجھے تجدید ایمان کرنے کی ضرورت ہے یا پھر پہلے دوست سے کرواؤں اور پھر خود کروں، جبکہ مجھے بھی وہ یاد نہیں ہیں، اور بھول چکا ہوں۔
(1)صورت مسئولہ میں مذکورہ مفتی صاحب کا یہ کہنا کہ کسی شخص کے کفریہ الفاظ سن کر خاموش رہنے والے صاحبِ اختیار(یعنی جس کے ذریعہ مذکورہ شخص کی اصلاح کی اُمید ہو) کی خاموشی اُس بولے گئے کُفریہ الفاظ پر رضامندی کی مانندہے لہذا مذکورہ سامع کے لیے بھی تجدیدِایمان کی ضرورت ہوگی،مذکورہ مفتی صاحب کا یہ بیان اصولاً درست نہیں ہے،اور نہ ہی کُفریہ الفاظ کےمذکورہ سامع کو کافر قرار دیاجائےگا،البتہ وہ گناہ گار ضرور ہوگا، اُسےتوبہ استغفار کرنے کے ساتھ کفریہ الفاظ کے قائل شخص کی اصلاح میں ہرممکن کوشش کرنالازم ہے۔تاہم وہ سامع اگر اُن کفریہ الفاظ کی تائید و توثیق میں خاموش ہو، اور اُن الفاظ پر رضامند ہونے کے ساتھ ساتھ اُنہیں اچھا بھی سمجھتا ہو،تو فقط اِس قسم کی تائیدی خاموشی کفر کا باعث بن سکتی ہے، مگر اِس پر بھی جب تک صراحتاً کوئی ثبوت و دلیل نہ پائی جائے کُفر کے احکام مرتب کرنا درست نہ ہوں گے۔
مذکورہ بالا تفصیل کی رو سے کسی عام مسلمان یا عالمِ دین کو یہ حق نہیں کہ یوں عمومی طور پر مسلمان کی تکفیر کرے،تکفیر ِمسلم بہت نازک معاملہ ہے،فقہاءکرام کے نزدیک مسلمان کی تکفیر سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے،ایمان و کفر کے معاملے میں غیرمحتاط بیانیہ بیان کرنے والے مذکورہ بالا مفتی صاحب یا اِس قسم کے دیگر سوشل میڈیا پر موجودغیرمستند حضرات سے شرعی معاملات میں راہ نمائی لینے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
(2) جب تک دوست کے کہے ہوئے الفاظ مکمل تفصیل کے ساتھ ارسال نہ کردیے جائیں،اس وقت تک اُن کے کفر ہونے نہ ہونے کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی جاسکتی ، البتہ اُن الفاظ کو سن کو سائل نے اپنے دوست کو متنبہ کیاتھا،تو اِس لیے سائل کے ایمان پر کچھ اثر واقع نہیں ہوا ہے،نہ کفرلازم آیاہےا ور نہ ہی تجدیدِ ایمان لازم ہے،نیزاب اِس معاملہ میں زیادہ سوچ و بچار نہ کرےالبتہ اِس قسم کے دوستوں کی بُری صحبت سے حتی الامکان بچے۔
مرقاۃ المفاتیح لعلی قاریؒ میں ہے:
"وخلاصة الكلام: من أبصر ما أنكره الشرع (فليغيره بيده) أي: بأن يمنعه بالفعل بأن يكسر الآلات ويريق الخمر ويرد المغصوب إلى مالكه، (فإن لم يستطع) أي: التغيير باليد وإزالته بالفعل، لكون فاعله أقوى منه (فبلسانه) أي: فليغيره بالقول وتلاوة ما أنزل الله من الوعيد عليه، وذكر الوعظ والتخويف والنصيحة (فإن لم يستطع) أي: التغيير باللسان أيضا (فبقلبه) : بأن لا يرضى به وينكر في باطنه على متعاطيه، فيكون تغييرا معنويا إذ ليس في وسعه إلا هذا القدر من التغيير، وقيل: التقدير فلينكره بقلبه لأن التغيير لا يتصور بالقلب... (وذلك) أي: الإنكار بالقلب وهو الكراهية (أضعف الإيمان) أي: شعبه أو خصال أهله، والمعنى أنه أقلها ثمرة، فمن غير المراتب مع القدرة كان عاصيا، ومن تركها بلا قدرة أو يرى المفسدة أكثر ويكرر منكرا لقلبه، فهو من المؤمنين... وقد قال بعض علمائنا: الأمر الأول للأمراء، والثاني للعلماء، والثالث لعامة المؤمنين. وقيل: المعنى إنكار المعصية بالقلب أضعف مراتب الإيمان، لأنه إذا رأى منكرا معلوما من الدين بالضرورة فلم ينكره ولم يكرهه، ورضي به واستحسنه كان كافرا."
(كتاب الآداب، باب الأمربالمعروف،رقم الحديث:5137، ج:8، ص:3208، ط:دارالفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف، ولو) كان ذلك (رواية ضعيفة) كما حرره في البحر، وعزاه في الأشباه إلى الصغرى. وفي الدرر وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر وواحد يمنعه فعلى المفتي الميل لما يمنعه.
وفي الرد: (قوله ولو رواية ضعيفة) قال الخير الرملي: أقول ولو كانت الرواية لغير أهل مذهبنا، ويدل على ذلك اشتراط كون ما يوجب الكفر مجمعا عليه (قوله كما حرره في البحر) قدمنا عبارته قبيل قوله وشرائط صحتها (قوله وجوه) أي احتمالات لما مر في عبارة البحر عن التتارخانية أنه لا يكفر بالمحتمل."
(كتاب الجهاد، باب المرتد، ج:4،ص:202، ط:سعيد)
وفيه ايضاً:
"وفي الفتاوى الصغرى: الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا يكفر اهـ وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل ح وفي التتارخانية: لا يكفر بالمحتمل، لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الإحتمال لا نهاية اهـ والذي تحرر أنه لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير فيها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها اهـ كلام البحر باختصار."
(كتاب الجهاد، باب المرتد، ج:4،ص:224، ط:سعيد)
فقط والله تعالى أعلم
فتویٰ نمبر : 144602100475
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن