بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کی نوکری کے لیے سفارش کرنا


سوال

 ایک ادارے میں اے ایس آئی کی بھرتیاں  ہو رہی ہیں، جس کے لیے ملک بھر سے ہزاروں بچوں نے اپلائی اور ٹیسٹ دیا ہے،ابتدائی امتحان میں دو بچے کامیابی ہو گئے ہیں، اب انٹرویو کے بعد میرٹ بننے کے بعد آسامیاں پر کی جائیں گی،  اب مسئلہ یہ ہے کہ ادارے کے سربراہ جنرل صاحب میرے جاننے والے ہیں،  مجھے ایک دوست نے کہا کہ دو بچے جو ابتدائی امتحان میں کامیاب ہیں، ان کے بارے میں سفارش کریں کہ ان کو ضرور سلیکٹ کریں،میں نے معذرت اس بنیاد پر کی کہ بچے اگر میرٹ پر نہیں آتے تو میرے کہنے پر رکھنے سے کسی دوسرے کی حق تلفی ہو گی، مگر میرے دوست کا کہنا کہ حضرت عباس رضی اللّہ نے اپنا اعتکاف توڑکر دوسرے کی مدد کی ،اگر ہم کسی کے کام نہیں آ سکتے، تو تبلیغ میں پھرتے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

توکیا ان کہنا درست ہے اور مجھے سفارش کر دینی چاہیے ؟

جواب

واضح رہے کہ  شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے کسی حق دار کو اس کاحق دلانے کی جائزسفارش کرنا تو اجروثواب کا باعث ہے، لیکن اہلیت نہ ہو تو سفارش کرنا گناہ کا باعث ہے،   البتہ اگر کوئی شخص نوکری کا اہل بھی ہو اور مستحق بھی ہو تو اس کی نوکری کے لیے سفارش  کرنا    کوئی گناہ کی بات نہیں ہے، اور نوکری حاصل ہونے والا اپنی  متعلقہ ذمہ داریاں اگر امانت داری کے ساتھ بحسن و خوبی انجام دیتاہے تو تنخواہ بھی حلال ہوگی۔

 لہذا صورت ِ مسئولہ میں اگر ابتدائی امتحان میں کامیاب ہونے والے دو طالب علم اگر واقعۃً نوکری کے اہل اور مستحق ہوں(جیسا کہ ابتدائی امتحان میں کئی طلباء میں سے وہ دو ہی کامیاب ہوئے ہیں)، تو ان کی سفارش کرنے میں آپ پر کوئی گناہ نہ ہو گا، لیکن اگر وہ دونوں نوکری کے اہل اور مستحق نہیں ہیں، تو پھر ان کے لیے سفارش کرنا درست نہ  ہو گا۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا وَمَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُنْ لَهُ كِفْبلٌ مِنْهَا وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقِيتًا ."[النساء:85]

ترجمہ:" جو کوئی سفارش کرے نیک بات میں اس کو بھی ملے گا اس میں سے ایک حصہ، اور جو کوئی شفارش کرے  بُری بات میں اس پر بھی   ہے ایک بوجھ اس میں سے اور اللہ ہے ہر چیز پر قدرت رکھنے والا۔"

  یعنی: اگر کوئی نیک کام میں سعی ،سفارش کرے جیسا کہ نبی اکرمﷺ  کا مسلمانوں کو جہاد کی تاکید فرمانا، یا کوئی بری بات میں ساعی ہو  جیسا منافق اور سست مسلمانوں کا جہاد سے ڈر کر دوسروں کو بھی ڈرانا  تو اول صورت میں ثواب کا اور دوسری صورت میں گناہ کا حصہ ملے گا، ایسے ہی اگر کوئی محتاج کی سفارش کرکے دولت مند سےکچھ دلوا دے تو یہ بھی خیرات کے ثواب میں شریک ہو گا اور جو کوئی کافر مفسد یا سارق کو سفارش کرکے چھڑا دے پھر وہ فساد اور چوری کرے تو یہ بھی شریک ہو گا فساد اور چوری میں۔"

(ماخوذ از تفسیر عثمانی، ص: 119)

الأشباه والنظائر میں ہے:

"‌إن ‌السلطان ‌اعتمد أهليته فإذا لم تكن موجودة لم يصح تقريره خصوصا إن كان المقرر عن مدرس أهل فإن الأهل لم ينعزل وصرح البزازي في الصلح أن السلطان إذا أعطى غير المستحق فقد ظلم مرتين؛ بمنع المستحق وإعطاء غير المستحق."

(الفروق،فائدة اذاولي السلطان مدرسا ليس بأهل،ص:337،ط:دارالكتب العلميه)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100264

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں