بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دوست کی دکان سے بغیر اجازت کوئی چیز لینے کا حکم


سوال

میرا ایک   دوست  مجھے د کان میں بٹھا کر چلا گیا ، اس کے جانے کے بعد میں نے اس کی د کان سے ایک چیز  اٹھا لی ، مگر پیسے نہیں دئیے، اور چلا گیا ، بعد  میں وہ پیسے  میں نےادا کر دئیے،  مگر اس کو بتایا نہیں کہ اس چیز کے پیسے ہیں ، اب پوچھنا یہ ہے کہ میرا یہ عمل چوری کہلائے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کی  مملوکہ چیز  محفوظ جگہ سے بلا اجازت اٹھانا جب  کہ کوئی بے تکلفی  بھی نہ ہو،چوری کے زمرے میں آتا ہے اور چوری شرعاً ناجائز اور حرام ہے، لہذا کسی کی مملوکہ  چیز بلااجازت لینے کی صورت میں  اگر وہ چیز بعینہ موجود ہو تو  وہی چیز مالک کو واپس کرنا شرعاً ضروری  ہے، اور اگر وہ چیز بعینہ موجود نہ ہو تو اس کی قیمت ادا کرنا لازم ہے۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے اپنے دوست کی دکان سے بلا اجازت  چیز لینا شرعاً جائز نہیں تھا، اور سائل کا یہ عمل شرعاً چوری کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا اگر وہ چیز بعینہ موجود ہو تو اسی کو واپس کردے،خواہ کسی بھی ذریعے سے وہ مالک تک پہنچا دی جائے، اس چیز کے موجود ہوتے ہوئے اس کی جگہ رقم ادا کرنے سے سائل بری الذمہ نہیں ہوگا،  اور اگر وہ چیز بعینہ موجود نہ ہو تو بعد میں اس چیز کی قیمت ادا کر دینے سے دوست کا  حق ادا ہو گیا ہے، اگرچہ اسے اس کی صراحتاً اطلاع نہ دی گئی ہو۔ ساتھ ہی سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(هي) لغة ‌أخذ ‌الشيء ‌من ‌الغير ‌خفية، وتسمية المسروق سرقة مجاز. وشرعا باعتبار الحرمة أخذه كذلك بغير حق نصابا كان أم لا."

(‌‌كتاب السرقة، ج: 4، ص: 82، ط: دار الفكر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وهل ‌يضمن ‌السرقة؟ إن كان استهلكها يضمن، وإن كانت قائمة ردها على المسروق منه."

(كتاب أدب القاضي، الباب التاسع والعشرون...، ج: 3، ص: 429، ط: دار الفكر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌والسبيل ‌في ‌المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه."

(كتاب الكراهية، الباب الخامس عشر في الكسب، ج: 5، ص: 349، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"والأصل أن المستحق بجهة ‌إذا ‌وصل ‌إلى ‌المستحق ‌بجهة ‌أخرى اعتبر واصلا بجهة مستحقة إن وصل إليه من المستحق عليه، وإلا فلا، وتمامه في جامع الفصولين.

(قوله أن المستحق بجهة) كالرد للفساد هنا فإنه مستحق للبائع على المشتري، ومثله رد المغصوب على المغصوب منه (قوله بجهة أخرى) كالهبة ونحوها."

(كتاب البيوع، ‌‌باب البيع الفاسد، ج: 5، ص: 92، ط: دار الفكر)

فتاوی حقانیہ میں ہے:

سوال:

زید بکر کے ہاں محنت مزدوری کرتا ہے، اس دوران اُس نے بکر کی ایک قیمتی گھڑی چُرالی، زید اب اپنے اس فعل پر نادم ہے اور بکر بھی زندہ ہے، لیکن واپس کرنے میں اگر بکر کو پتہ چل گیا تو زید کو خدشہ ہے کہ وہ میری بے عزتی کرے گا، اب زید کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ بے عزتی بھی نہ ہو اور آخرت کے مؤاخذہ سے بھی بچ سکے؟

الجواب:

"کسی مسلمان کا مال اُس کی اجازت کے بغیر لینا یا اس کو چوری کرنا حرام اور ناجائز ہے اور اصل مالک کو واپس کرنا واجب ہے، اس لیے زید کو ہر حال میں گھڑی واپس کردینی چاہیے، اور اگر ظاہرا واپس کرنے میں بے عزتی کا خطرہ ہو تو کسی خفیہ تدبیر سے پہنچادی جائے، مالک کو اطلاع دینا ضروری نہیں ہے۔"

(کتاب الغصب، ، ج:6، ص:393-394، ط: مکتبہ سید احمد شہید اکوڑہ خٹک)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

"زید کے ذمہ ضروری ہے کہ جو اشیاء مسروقہ بکر کی اس کے پاس موجود ہیں وہ بکر کو واپس کر دے اور جو ہلاک ہو گئی ان کو معاف کرا دے یا ضمان دیوے۔۔۔"

(کتاب القصاص و الحدود ، باب سوم: حد سرقہ، ج: 12 ، ص: 130 ، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100501

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں