بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کمپنی میں بطور مضاربت کام کرنے کے اصول/طے شدہ منافع کے ساتھ تنخواہ لینے کا حکم


سوال

ایک پاکستانی اونڈ یوکے بیسڈ فوڈ چین  کی سندھ کی ماسٹر فرنچائز  خریدی گئی ہے،  اس کاروبار میں سرمایہ کار اور ایک تجارتی رہنما نے سرمایہ فراہم کیا ہے اور وہی منیجنگ ڈائریکٹر بھی ہیں۔ میں نے کوئی سرمایہ نہیں لگایا، بلکہ صرف وقت، محنت اور کام کرنے کا عہد کیا ہے،  طے پایا ہے کہ مجھے اس کاروبار کے نفع کا دس فیصد حصہ دیا جائے گا۔ فی الحال کوئی ماہانہ تنخواہ طے نہیں ہوئی، لیکن بطورِ مثال کہا گیا ہے کہ تنخواہ تقریباً اسی ہزار روپے ماہانہ ہو گی۔ وہ کاروباری راہ نما کہتے ہیں کہ:آپ ورکنگ پارٹنر نہیں ہو سکتے، کیوں کہ ورکنگ پارٹنر تو نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوتا ہے۔ آپ حقیقتاً صرف نفع میں شریک ڈائریکٹر ہیں، جسے سالِ آخر میں نفع کا دس فیصد دیا جائے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ:

1-کیا ایسی صورت جائز ہے کہ میں بغیر سرمایہ لگائے صرف محنت کے بدلے نفع کا حصہ لوں اور ساتھ تنخواہ قبول کروں؟

2-کیا یہ معاملہ ورکنگ پارٹنرشپ کے بجائے مضارَبہ یا نفع کی کسی دوسری جائز شراکت کی صورت شمار کیا جائے؟

3-اگر میں صرف  نفع کا دس فیصد ڈائریکٹر  ہوں اور نقصان میں شریک نہ ہوں، تو کیا یہ معاہدہ شرعاً درست ہوگا؟

4-کیا کوئی شخص بغیر سرمایہ لگائے صرف محنت و کام کے ذریعے “ورکنگ پارٹنر” بن سکتا ہے؟ اگر بن سکتا ہے، تو کیا وہ نفع و نقصان دونوں میں شریک ہوگا یا صرف نفع حاصل کرے گا؟

کمپنی کا باضابطہ لانچ ان شاء اللہ مارچ2026 میں ہوگا۔ اس دوران اگر کمپنی کا کوئی کام ہو، مثلاً سفر، رہائش، کھانے پینے وغیرہ، تو یہ اخراجات کمپنی برداشت کرے گی، لیکن اس عرصے میں مجھے کوئی تنخواہ یا اجرت نہیں دی جائے گی۔ مجھے فکر ہے کہ اگر میں اس دوران کوئی دوسرا کام کروں گا تو کمپنی کے کام پر مکمل توجہ نہیں دے پاؤں گا۔

5-کیا ایسی صورت میں کمپنی آپ کو اجرت یا وظیفہ وغیرہ کی ادائیگی کر سکتی ہے، حالاں کہ ابھی کمپنی لانچ نہیں ہوئی؟

6-مزید یہ کہ کاروباری راہ نما کہہ رہے ہیں کہ جنوری 2026 میں آپ کو لاہور ٹریننگ کے لیے بھیجا جائے گا، اور کمپنی آپ کے سفر، رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات اٹھائے گی، مگر وہ اضافی رقم جو آپ کو دی جائے گی، وہ سال کے آخر میں نفع سے کٹ لی جائے گی؟

7-کیا ٹریننگ کے اخراجات کمپنی کی طرف سے ادا کرنا، اور بعد میں اضافی رقم نفع سے کٹنا، شرعاً جائز ہے؟

8-کیا اس عرصے میں، کمپنی کے کام شروع نہ ہونے کے باوجود، کمپنی کا آپ پر اخراجات اٹھانا اور آپ کو الگ اجرت نہ دینا شرعاً درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی دو ممکنہ حیثیتیں ہو سکتی ہیں: ایک یہ کہ وہ اجیر بنے، تو ایسی صورت میں اسے صرف  وقت کے بدلے طے شدہ تنخواہ ملے گی، اور نفع و نقصان سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ مضارب ہو، یعنی سرمایہ کسی اور کا ہو اور محنت سائل کی طرف سے ہو، جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس صورت میں اگر سرمایہ کار اُسے نفع کا مثلاً دس فیصد دیتا ہے، تو اُسے صرف اتنا ہی نفع ملے گا، اور اس کے علاوہ کسی تنخواہ کا لینا یا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہوگا، کیوں کہ وہ صرف مضارب شمار ہوگا۔ اس صورت میں وہ صرف نفع میں شریک ہوگا، اور اگر کاروبار میں نقصان ہو تو اس کی تلافی سب سے پہلے حاصل شدہ نفع سے کی جائے گی، اور اگر نفع نہ ہو یا ناکافی ہو تو پھر وہ نقصان اصل سرمایہ سے پورا کیا جائے گا، بشرطیکہ مضارب (یعنی سائل) کی طرف سے کوئی غبن یا خیانت نہ ہوئی ہو۔

البتہ، دونوں صورتوں (یعنی اجیر یا مضارب ہونے) میں کاروبار کے لازمی اور عرفی اخراجات کاروبار کی ضروریات میں شامل ہیں، لہٰذا یہ کاروباری فنڈز سے ادا کیے جائیں گے اور ان کا بوجھ اجیر یا مضارب پر نہیں ڈالا جائے گا۔

1-جیسا کہ تمہید میں ذکر ہو چکا ہے، اگر سائل اجیر ہو تو وہ صرف طے شدہ تنخواہ کا مستحق ہوگا، اور اگر مضارب ہو تو صرف نفع کا حق دار ہوگا۔ دونوں حیثیتوں میں سے کسی ایک حیثیت کے مطابق ہی معاملہ ہوگا،بیک وقت  دونوں (تنخواہ اور نفع) لینا شرعاً جائز نہیں۔

2-مذکورہ معاملہ ورکنگ پارٹنرشپ (Working Partnership) کے بجائے شرعاً صرف اجارہ یا مضاربہ کی صورت میں شمار ہوگا۔

3-اگر سائل اجیر ہو تو وہ صرف تنخواہ کا مستحق ہوگا اور کاروبار کے نفع یا نقصان سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اور اگر وہ مضارب ہو تو نقصان کی تلافی پہلے حاصل شدہ نفع سے کی جائے گی، اور اگر وہ نہ ہو یا ناکافی ہو تو سرمایہ دار کے سرمایہ سے کی جائے گی۔

4-بغیر سرمایہ لگائے ہوئے سائل کی شرعی طور پر صرف دو حیثیتیں ہو سکتی ہیں: اجیر یا مضارب۔ ہر ایک کی تفصیل اوپر بیان ہو چکی ہے۔ باقی جہاں "ورکنگ پارٹنرشپ" جیسا عمومی انگریزی لفظ استعمال ہوتا ہے، وہاں اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، اس لیے اس کی شرعی حیثیت تب ہی واضح کی جا سکتی ہے جب اس کی تفصیل صراحت سے معلوم ہو۔

5-اگر سائل کی حیثیت اجیر کی ہو، تو روزِ اول سے اسے تنخواہ دی جائے گی۔ اور اگر وہ مضارب ہو، تو وہ صرف نفع کا مستحق ہوگا، اور نفع کے علاوہ کسی اور مد میں اجرت لینا اس کے لیے جائز نہیں۔

6-اگر سائل کاروبار سے اضافی رقم اپنی ذاتی یا نجی ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے، تو وہ رقم اس پر واجب الادا ہوگی، یعنی اسے واپس کرنا ہوگا،  البتہ اگر سرمایہ کار سال کے اختتام پر نفع میں سے وہ رقم منہا کر لیتا ہے تو یہ بھی جائز ہے۔

7-کاروبار کے وہ اخراجات جو عرفاً اور واقعی طور پر کاروباری ضرورت میں شامل ہوتے ہیں، جیسے اوپر تفصیل سے ذکر ہوا، وہ کاروباری مال سے ہی ادا کیے جائیں گے۔ اگر سائل ان جائز اخراجات سے ہٹ کر کوئی رقم ذاتی استعمال میں لاتا ہے، تو اسے واپس کرنا لازم ہوگا، اور اگر وہ رقم نفع سے منہا کر دی جائے تو یہ بھی شرعاً درست ہے۔

8-اس تمام تفصیل کی روشنی میں کمپنی کا طرزِ عمل درست ہے، اور اگر سائل نے زائد رقم لی ہے تو اس پر اسے وہ رقم واپس کرنا ضروری ہے۔

دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"المادة (1404) - (المضاربة نوع شركة على أن يكون رأس المال من طرف والسعي والعمل من الطرف الآخر، ويدعى صاحب المال رب المال والعامل مضاربا)"

(الکتاب العاشر، الباب السابع، ج:3، ص:425، ط:دار الجيل)

وفیہ ایضاً:

"(1411) 8 - أن تكون الحصة التي تعطى للمضارب من الربح، فلذلك إذا شرط إعطاء هذه الحصة من رأس المال فقط أو شرط إعطاء مقدار منها من رأس المال ومقدار منها من الربح تفسد المضاربة (الطحطاوي والدر المنتقى) ."

(الکتاب العاشر، الباب السابع، ج:3، ص:430، ط:دار الجيل)

وفیہ ایضاً:

"استحقاق الشركاء لمقدار الربح إنما يكون بالنظر إلى حكم الشرط الذي أورد في عقد الشركة الموافق للشرع. انظر المادة (83) .

قيل في الشرح: الموافق للشرع؛ لأنه إذا لم يوجد أحد الأمور الثلاثة وشرط الربح فالشرط غير معتبر كما ذكر في المادة الآنفة مثلا: لو تعهد ثلاثة عمال حمل حمل ثم نقله أحدهم فللعامل الناقل أخذ ثلث الأجرة.

وليس للاثنين الآخرين أخذ شيء لأنه ليس لهما مال أو عمل أو ضمان كما ذكر في شرح المادة (1332) . ويستفاد من المواد (1368 و 1371 و 1372 و 1402) أنه لا يقسم الربح بموجب الشرط غير الموافق للشرع.

قيل " لمقدار الربح " يعني قد اعتبر حذف المضاف حتى يفترق عن الاستحقاق الوارد في المادة (1369) .

وليس بالنظر إلى العمل الذي عمل بعد العقد فعليه لو لم يعمل الشريك المشروط عمله فيعد كأنه عمل ويستحق الربح.

الخلاصة: إذا كان العمل مشروطا على جميع الشركاء فلا يجب اجتماع جميعهم في العمل فإذا أوفى أحدهم العمل فيأخذ جميعهم حصتهم المشروطة في الربح (رد المحتار) لأن العامل وكيل عن الشريك الآخر.

أما الوضيعة أي العطل والضرر فيكون بالنظر إلى رأس المال ولا يعتبر بلا شرط خلافه. انظر المادة (1369) . (رد المحتار) ."

(الکتاب العاشر، الباب السادس، الفصل الرابع، ج:3، ص:364، ط:دار الجيل)

وفیہ ایضاً:

"والمراد من المصرف هو مأكوله وغموسه وملبوسه وخادمه أي العامل للأشياء التي تلزمه كالطباخ وغاسل ثيابه وأجرة فرش النوم والحيوان الذي يركبه وعلفه مما يتعلق بالنفقة وما يحتاجه المضارب حسب عادة التجار ولو فاكهة أي معتادة واللحم كما كان يأكل (تكملة رد المحتار) ومن مؤنته الواجبة فيه غسل ثيابه وأجرة من يخدم والدهن في موضع يحتاج إليه كالحجاز وأجرة الحمام والحلاق وقص الشارب كل ذلك من مال المضاربة؛ لأن العادة جرت بها؛ ولأن نظافة البدن والثياب يوجب كثرة من يعامله؛ لأن صاحب الوسخ يعده الناس من المفاليس فيجتنبون معاملته فيطلق له ذلك بالمعروف وكذا له الخضاب وأكل الفاكهة كعادة التجار (تكملة رد المحتار)"

(الکتاب العاشر، الباب السابع، الفصل الثالث، ج:3، ص:451، ط:دار الجيل)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"أو يملكا مالا بالشراء أو بالصدقة، كذا في فتاوى قاضي خان أو يوصى لهما فيقبلان، كذا في الاختيار شرح المختار، وركنها اجتماع النصيبين، وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك،"

(کتاب الشرکۃ، الباب الاول، ج:2، ص:301، ط:دار الفكر بيروت)

 النتف فی الفتاوی میں ہے:

"والاجارۃ لا تخلو: اماان تقع علی  وقت معلوم او عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فلا تجب الاجرۃ الاباتمام العمل۔۔۔۔۔وان وقعت علی وقت معلوم فتجب الاجرۃ بمضی الوقت."

(  کتاب الاجارۃ، معلومیۃ الوقت والعمل،ج:2، ص:559، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والثاني) وهو ‌الأجير (‌الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل."

(کتاب الاجارہ، باب ضمان الاجیر، مبحث الاجیر الخاص، ج:6، ص:69، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100720

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں