بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 صفر 1448ھ 18 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کر کے اس کے ذریعے لوگوں سے رقوم بٹورنے پر متاثرہ شخص کا اکاؤنٹ کے مالک سے ضمان کا مطالبہ کرنے کا حکم


سوال

میرا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا، جس کی اطلاعِ عام کےلئے فیسبک پر خود بھی اور اپنے متعلقین کے ذریعہ بھی پوسٹ کی تھی کہ میرا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے، لہذا کوئی میرے اس اکاؤنٹ سے کسی کو  میسیج یا فون کرکے رقم بھیجنے کا مطالبہ کرے، تو رقم مت بھیجنا، یہی اطلاع میں نے اپنے دوسرے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر اسٹیٹس پر لگائی تھی، نیز وہ ہیک شدہ اکاؤنٹ میرے جس فون نمبر پر بنا تھا، وہ میرے پاس ہی تھا، اور اس کی سروسز بھی آن تھیں، چنانچہ کوئی بھی مجھ سے فون پر رابطہ کرکے تصدیق کروا سکتا تھا، لیکن بدقسمتی سے لوگوں کو میرے مذکورہ واٹس ایپ اکاؤنٹ سے ہنگامی طور پر رقم بھیجنے کی درخواستیں وصول ہو گئی تھیں، چنانچہ ان لوگوں نے ہیکرز کی طرف سے بھیجے گئے نامعلوم اکاؤنٹس میں رقم بھی بھیج دی، اب صورتحال یہ ہےکہ مذکورہ رقم بھیجنے والے حضرات اس رقم کا مطالبہ مجھ سے کررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ رقم بھیجنے کی درخواستیں ان کو میرے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے موصول ہوئی تھی، لہذا ضمان بھی مجھ پر آئے گا۔

سوال یہ ہے کہ کیادرج بالا صورتحال میں   مذکورہ رقم کا تاوان شرعاً مجھ  پر آئے گایا نہیں؟

وضاحت :ان حضرات کی طرف سے بھیجی گئی رقم میرے اکاؤنٹ میں نہیں آئی ہے، بلکہ ہیکرز کی طرف سے بھیجے گئے نامعلوم اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوئی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے دھوکہ دہی اور فراڈ کا ارتکاب کرکےسائل کا اکاؤنٹ اس کی مرضی واجازت کے بغیر استعمال کیا ہے، سائل مذکورہ معاملے میں نہ کسی طور شریک رہا اور نہ ہی اس کی جانب سے مذکورہ شخص کو یہ اجازت دی گئی تھی کہ وہ اس کے نام پر کسی سے رقوم وصول کرے، اوررقم دینے والوں نے رقم دیتے  وقت سائل  سے تصدیق بھی نہیں کی، جبکہ فی زمانہ دھوکہ بازوں( ہیکروں)  کی طرف سےدھوکہ دہی کرکے لوگوں کے واٹس ایپ ہیک کرنا عام ہوتا جارہاہے،اوریہ لوگوں کے درمیان معروف اور مشہور ہے۔
الغرض دھوکہ باز نے  دھوکہ دہی، غلط بیانی اور فراڈ کے ذریعے سائل کے نام کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے رقوم حاصل کی، اس لیے شرعی نقطۂ نظر سے اس کا ضمان  مذکورہ شخص (ہیکر) پر ہی ہوگا، سائل پر ان رقوم کا کوئی تاوان یا مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، لہٰذا اس کے ذمہ ان رقوم کی ادائیگی شرعاً لازم نہیں ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

''ومعلوم أن ‌المباشر، ‌والمتسبب إذا اجتمعا في الإتلاف، فالضمان على المباشر دون المتسبب.''

(كتاب الإكراه ،باب تعدي العامل،ج:24،ص:72،ط:مطبعة السعادة - مصر)

درر الحکام فی شرح مجلۃالأحكام میں ہے:

''(المادة 90) ‌إذا ‌اجتمع ‌المباشر ‌والمتسبب ‌أضيف ‌الحكم ‌إلى ‌المباشر]

‌إذا ‌اجتمع ‌المباشر ‌والمتسبب ‌أضيف ‌الحكم ‌إلى ‌المباشر هذه القاعدة مأخوذة من الأشباه. ويفهم منها أنه إذا اجتمع المباشر أي عامل الشيء وفاعله بالذات مع المتسبب وهو الفاعل للسبب المفضي لوقوع ذلك الشيء ولم يكن السبب ما يؤدي إلى النتيجة السيئة إذا هو لم يتبع بفعل فاعل آخر، يضاف الحكم الذي يترتب على الفعل إلى الفاعل المباشر دون المتسبب وبعبارة أخصر يقدم المباشر في الضمان عن المتسبب.....‌لو ‌حفر ‌رجل ‌بئرا ‌في ‌الطريق ‌العام ‌فألقى ‌أحد حيوان شخص في ذلك البئر ضمن الذي ألقى الحيوان ولا شيء على حافر البئر؛ لأن حفر البئر بحد ذاته لا يستوجب تلف الحيوان ولو لم ينضم إليه فعل المباشر وهو إلقاء الحيوان في البئر لما تلف الحيوان بحفر البئر فقط.''

(‌المادة 90 ،ج:1،ص:91،ط:دارالجیل)

بدائع الصنائع میں ہے:

''ولو حفر بئرا في الطريق، فجاء إنسان، ودفع إنسانا، وألقاه فيها - فالضمان على الدافع لا على الحافر؛ لأن الدافع قاتل مباشرة.''

(كتاب الجنايات ،ج:7،ص:275،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144801101235

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں