
میرا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا، جس کی اطلاعِ عام کےلئے فیسبک پر خود بھی اور اپنے متعلقین کے ذریعہ بھی پوسٹ کی تھی کہ میرا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے، لہذا کوئی میرے اس اکاؤنٹ سے کسی کو میسیج یا فون کرکے رقم بھیجنے کا مطالبہ کرے، تو رقم مت بھیجنا، یہی اطلاع میں نے اپنے دوسرے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر اسٹیٹس پر لگائی تھی، نیز وہ ہیک شدہ اکاؤنٹ میرے جس فون نمبر پر بنا تھا، وہ میرے پاس ہی تھا، اور اس کی سروسز بھی آن تھیں، چنانچہ کوئی بھی مجھ سے فون پر رابطہ کرکے تصدیق کروا سکتا تھا، لیکن بدقسمتی سے لوگوں کو میرے مذکورہ واٹس ایپ اکاؤنٹ سے ہنگامی طور پر رقم بھیجنے کی درخواستیں وصول ہو گئی تھیں، چنانچہ ان لوگوں نے ہیکرز کی طرف سے بھیجے گئے نامعلوم اکاؤنٹس میں رقم بھی بھیج دی، اب صورتحال یہ ہےکہ مذکورہ رقم بھیجنے والے حضرات اس رقم کا مطالبہ مجھ سے کررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ رقم بھیجنے کی درخواستیں ان کو میرے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے موصول ہوئی تھی، لہذا ضمان بھی مجھ پر آئے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیادرج بالا صورتحال میں مذکورہ رقم کا تاوان شرعاً مجھ پر آئے گایا نہیں؟
وضاحت :ان حضرات کی طرف سے بھیجی گئی رقم میرے اکاؤنٹ میں نہیں آئی ہے، بلکہ ہیکرز کی طرف سے بھیجے گئے نامعلوم اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوئی ہے۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
''ومعلوم أن المباشر، والمتسبب إذا اجتمعا في الإتلاف، فالضمان على المباشر دون المتسبب.''
(كتاب الإكراه ،باب تعدي العامل،ج:24،ص:72،ط:مطبعة السعادة - مصر)
درر الحکام فی شرح مجلۃالأحكام میں ہے:
''(المادة 90) إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر]
إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر هذه القاعدة مأخوذة من الأشباه. ويفهم منها أنه إذا اجتمع المباشر أي عامل الشيء وفاعله بالذات مع المتسبب وهو الفاعل للسبب المفضي لوقوع ذلك الشيء ولم يكن السبب ما يؤدي إلى النتيجة السيئة إذا هو لم يتبع بفعل فاعل آخر، يضاف الحكم الذي يترتب على الفعل إلى الفاعل المباشر دون المتسبب وبعبارة أخصر يقدم المباشر في الضمان عن المتسبب.....لو حفر رجل بئرا في الطريق العام فألقى أحد حيوان شخص في ذلك البئر ضمن الذي ألقى الحيوان ولا شيء على حافر البئر؛ لأن حفر البئر بحد ذاته لا يستوجب تلف الحيوان ولو لم ينضم إليه فعل المباشر وهو إلقاء الحيوان في البئر لما تلف الحيوان بحفر البئر فقط.''
(المادة 90 ،ج:1،ص:91،ط:دارالجیل)
بدائع الصنائع میں ہے:
''ولو حفر بئرا في الطريق، فجاء إنسان، ودفع إنسانا، وألقاه فيها - فالضمان على الدافع لا على الحافر؛ لأن الدافع قاتل مباشرة.''
(كتاب الجنايات ،ج:7،ص:275،ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101235
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن