بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ذو الحجة 1447ھ 12 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کر کے اس کے ذریعے لوگوں سے رقوم بٹورنے پر ضمان کس پر ہوگا؟


سوال

مجھے ایک شخص نے  فون کیا اور اس نے مجھ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آپ کا واٹس ایپ بند کر دیا ہے کچھ دیر میں کھول دیا جائے گا ،میں نے اس کو بہت ڈانٹا تو اس  نے کہا :کہ آپ پریشان نہ ہوں آپ کے پاس جو  کوڈآیا ہے، وہ بتائیں تو یہ کھل جائے گا ،تو میں نے وہ بتا دیا اس کے بعد میرا واٹس ایپ  اکاؤنٹ اس بندے ( یعنی ہیکر)کے پاس کھل گیا اور اس نے اس کا غلط استعمال شروع کر دیا ،میرے واٹس  ایپ اکاؤنٹ سے اس نے میرے تمام جاننے والوں کومیسج   بھیج دیا۔

مجھے اس طرح پتہ چلا کہ ایک صاحب کا فون آیا وہ کہنے لگے کہ :رضی بھائی آپ نے میسج کیا ہے آپ کو رقم کی ضرورت ہے؟ میں نے کہا: میں نے تو کوئی میسج نہیں کیا۔ اس کے بعد میں نے گھر والوں کو بتایا تاکہ وہ آگے لوگوں کو آگاہ کریں،اور ان تک یہ بات پہنچادے کہ  یہ میسج کوئی اور کر رہاہے،اور میں خود اس بارے میں لوگوں سے رابطہ میں رہا۔ اس کے باوجود  کچھ دوست و احباب نے بغیر تصدیق کیے اس ہیکر کے اکاؤنٹ میں رقم بیج دی ،ہیکر نے صرف میرا واٹس اپ   اکاؤنٹ ہیک کیا تھا ،رقم وصول کرنے کے لیے وہ اپنا نام اور نمبر اور ایزی  پیسہ اکاؤنٹ استعمال کر رہا تھا ۔

اب سوال یہ کہ :مذکورہ صورت میں جنہوں نے رقم ہیکر کو ٹرانسفر کی ہیں اس رقم  کا ضامن کون ہوگا؟اور کیا اس کا تاوان مجھ پر آئے گا یا نہیں ؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے دھوکہ دہی اور فراڈ کا ارتکاب کرکےسائل کا اکاؤنٹ اس کی مرضی واجازت کے بغیر استعمال کیا ہے، سائل مذکورہ معاملے میں نہ کسی طور شریک رہا اور نہ ہی ان کی جانب سے مذکورہ شخص کو یہ اجازت دی گئی تھی کہ وہ ان کے نام پر کسی سے رقوم وصول کرے، اوررقم دینے والوں نے رقم دیتے  وقت سائل  سے تصدیق بھی نہیں کی، جبکہ فی زمانہ دھوکہ بازوں( ہیکروں)  کی طرف سےدھوکہ دہی کرکے لوگوں کے واٹس ایپ ہیک کرنا عام ہوتا جارہاہے،لوگوں کے درمیان معروف اور مشہور ہے۔
الغرض دھوکہ باز نے  دھوکہ دہی، غلط بیانی اور فراڈ کے ذریعے سائل کے نام کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے رقوم حاصل کی، اس لیے شرعی نقطۂ نظر سے اس کا ضمان  مذکورہ شخص (ہیکر) پر ہی ہوگا، سائل پر ان رقوم کا کوئی تاوان یا مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، لہٰذا اس کے ذمہ ان رقوم کی ادائیگی شرعاً لازم نہیں ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

''ومعلوم أن ‌المباشر، ‌والمتسبب إذا اجتمعا في الإتلاف، فالضمان على المباشر دون المتسبب،''

(كتاب الإكراه ،باب تعدي العامل،ج:24،ص:72،ط:مطبعة السعادة - مصر)

درر الحکام فی شرح مجلۃالأحكام میں ہے:

''(المادة 90) ‌إذا ‌اجتمع ‌المباشر ‌والمتسبب ‌أضيف ‌الحكم ‌إلى ‌المباشر]

‌إذا ‌اجتمع ‌المباشر ‌والمتسبب ‌أضيف ‌الحكم ‌إلى ‌المباشر هذه القاعدة مأخوذة من الأشباه. ويفهم منها أنه إذا اجتمع المباشر أي عامل الشيء وفاعله بالذات مع المتسبب وهو الفاعل للسبب المفضي لوقوع ذلك الشيء ولم يكن السبب ما يؤدي إلى النتيجة السيئة إذا هو لم يتبع بفعل فاعل آخر، يضاف الحكم الذي يترتب على الفعل إلى الفاعل المباشر دون المتسبب وبعبارة أخصر يقدم المباشر في الضمان عن المتسبب.....‌لو ‌حفر ‌رجل ‌بئرا ‌في ‌الطريق ‌العام ‌فألقى ‌أحد حيوان شخص في ذلك البئر ضمن الذي ألقى الحيوان ولا شيء على حافر البئر؛ لأن حفر البئر بحد ذاته لا يستوجب تلف الحيوان ولو لم ينضم إليه فعل المباشر وهو إلقاء الحيوان في البئر لما تلف الحيوان بحفر البئر فقط.''

(‌المادة 90 ،ج:1،ص:91،ط:دارالجیل)

بدائع الصنائع میں ہے:

''ولو حفر بئرا في الطريق، فجاء إنسان، ودفع إنسانا، وألقاه فيها - فالضمان على الدافع لا على الحافر؛ لأن الدافع قاتل مباشرة''

(كتاب الجنايات ،ج:7،ص:275،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101737

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں