
مجھے ایک شخص نے فون کیا اور اس نے مجھ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آپ کا واٹس ایپ بند کر دیا ہے کچھ دیر میں کھول دیا جائے گا ،میں نے اس کو بہت ڈانٹا تو اس نے کہا :کہ آپ پریشان نہ ہوں آپ کے پاس جو کوڈآیا ہے، وہ بتائیں تو یہ کھل جائے گا ،تو میں نے وہ بتا دیا اس کے بعد میرا واٹس ایپ اکاؤنٹ اس بندے ( یعنی ہیکر)کے پاس کھل گیا اور اس نے اس کا غلط استعمال شروع کر دیا ،میرے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے اس نے میرے تمام جاننے والوں کومیسج بھیج دیا۔
مجھے اس طرح پتہ چلا کہ ایک صاحب کا فون آیا وہ کہنے لگے کہ :رضی بھائی آپ نے میسج کیا ہے آپ کو رقم کی ضرورت ہے؟ میں نے کہا: میں نے تو کوئی میسج نہیں کیا۔ اس کے بعد میں نے گھر والوں کو بتایا تاکہ وہ آگے لوگوں کو آگاہ کریں،اور ان تک یہ بات پہنچادے کہ یہ میسج کوئی اور کر رہاہے،اور میں خود اس بارے میں لوگوں سے رابطہ میں رہا۔ اس کے باوجود کچھ دوست و احباب نے بغیر تصدیق کیے اس ہیکر کے اکاؤنٹ میں رقم بیج دی ،ہیکر نے صرف میرا واٹس اپ اکاؤنٹ ہیک کیا تھا ،رقم وصول کرنے کے لیے وہ اپنا نام اور نمبر اور ایزی پیسہ اکاؤنٹ استعمال کر رہا تھا ۔
اب سوال یہ کہ :مذکورہ صورت میں جنہوں نے رقم ہیکر کو ٹرانسفر کی ہیں اس رقم کا ضامن کون ہوگا؟اور کیا اس کا تاوان مجھ پر آئے گا یا نہیں ؟
درر الحکام فی شرح مجلۃالأحكام میں ہے:
''(المادة 90) إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر]
إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر هذه القاعدة مأخوذة من الأشباه. ويفهم منها أنه إذا اجتمع المباشر أي عامل الشيء وفاعله بالذات مع المتسبب وهو الفاعل للسبب المفضي لوقوع ذلك الشيء ولم يكن السبب ما يؤدي إلى النتيجة السيئة إذا هو لم يتبع بفعل فاعل آخر، يضاف الحكم الذي يترتب على الفعل إلى الفاعل المباشر دون المتسبب وبعبارة أخصر يقدم المباشر في الضمان عن المتسبب.....لو حفر رجل بئرا في الطريق العام فألقى أحد حيوان شخص في ذلك البئر ضمن الذي ألقى الحيوان ولا شيء على حافر البئر؛ لأن حفر البئر بحد ذاته لا يستوجب تلف الحيوان ولو لم ينضم إليه فعل المباشر وهو إلقاء الحيوان في البئر لما تلف الحيوان بحفر البئر فقط.''
(المادة 90 ،ج:1،ص:91،ط:دارالجیل)
بدائع الصنائع میں ہے:
''ولو حفر بئرا في الطريق، فجاء إنسان، ودفع إنسانا، وألقاه فيها - فالضمان على الدافع لا على الحافر؛ لأن الدافع قاتل مباشرة''
(كتاب الجنايات ،ج:7،ص:275،ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101737
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن