بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کا وائی فائی اس کی اجازت کے بغیر آگے استعمال کرنے کی اجازت دینا درست نہیں


سوال

اگر ایک شخص نے دوسرے شخص کو اپنے وائی فائی کے استعمال کی اجازت دی ہے تو وہ دوسرا شخص اگر کسی کو اجازت دے تو کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دوسرا شخص پہلے شخص کی اجازت سے دوسرے کو وائی فائی استعمال کرنے کی اجازت دے سکتا ہے، پہلے شخص کی  اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو وائی فائی استعمال کرنے کی اجازت دینا جائز نہیں ہے۔

دررالحکام میں ہے:

" (المادة ٩٦) :

‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌أن ‌يتصرف ‌في ‌ملك ‌الغير ‌بلا ‌إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ج:1، ص:96، ط:دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100309

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں