بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کا مال اپنے پاس بطورِ کرایہ رکھنے کے بعد اگر ہلاک ہوجاۓ تو کیا ضمان آۓ گا


سوال

ایک شخص کا ذاتی گودام ہے،اس نے کچھ مال فروخت کر دیا اور مال کو تول کر، تھپی لگا کر الگ کر دیا، اور خریدار کو بتا دیا کہ آپ کا مال تول کر الگ کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد، وہ باقاعدہ اس خریدار سے اس مال کا کرایہ لیتا ہے جب تک مال گودام میں پڑا رہے۔

پھر بعض گودام والےباقاعدہ خریدار کی اجازت سے، اس کے نام کا کھاتہ بنا کر کرایہ وصول کرتے ہیں، اور بعض گودام والے کھاتہ بنائے بغیر ہی کرایہ وصول کرتے ہیں، جتنی مدت سامان گودام میں رہے۔

اس صورت میں خریدار سے کبھی زبانی بات ہوتی ہے اس حوالے سے، اور کبھی زبانی بات نہیں ہوتی، لیکن سب کو پتہ ہوتا ہے کہ گودام میں جتنی مدت مال پڑا رہے گا، اس کا کرایہ دینا ہوگا، چنانچہ جس سے بات نہ بھی ہوئی ہو، وہ بھی کرایہ بخوشی دے دیتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں فروخت شدہ سامان جب تک گودام میں پڑا رہے، کس کے ذمہ ”ضمان“ ہوگا؟اور اگر وہ ہلاک ہو جائے، مثلاً چوری ہو جائے یا کسٹم والے اٹھا کر لے جائیں، تو نقصان کس کا ہوگا: فروخت کنندہ کا یا خریدار کا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب فروخت کنندہ مال بیچنے کے بعد، خریدار کی اجازت سے وہ مال گودام میں  اپنے پاس بطورِ کرایہ رکھے،توایسی حالت میں اگر مال فروخت کنندہ کی کسی کوتاہی یا زیادتی کے بغیر ضائع ہو جائے، جیسے معقول حفاظت کے باوجود، چوری ہو جائے یا کسٹم والے لے جائیں، یا گودام میں ہی مال ضائع ہوجائے مثلاً آگے وغیرہ لگ کر تو بیچنے والے پر کوئی ذمہ داری (ضمان) نہیں ہوگی،فروخت کنندہ پر کسی قسم کا کوئی ضمان نہیں آئے گا، لیکن اگر مال اس کی غفلت یا زیادتی کی وجہ سے ضائع ہو، تو پھر فروخت کنندہ تاوان دینے کا ذمہ دار ہوگا۔

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 600) ‌المأجور ‌أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحا أو لم يكن. (المادة 601) لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته. (المادة 602) يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه."

(‌‌الكتاب الثاني في الإجارات، الباب الثامن في بيان الضمانات،‌‌ الفصل الثاني في ضمان المستأجر، المادة: 600/601/602، ص: 112، ط: نور محمد كراتشي )

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702101316

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں