بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی ادارہ میں مخصوص افراد کو ذمہ داریاں ملنے اور ذمہ داریاں واپس لیے جانے سے متعلق بیان کرنا غیبت ہے یا نہیں؟


سوال

میں ایک جگہ اُستاد ہوں، ایک صاحب جو وہاں پہلے ملازم تھے ان سے جب میری بات ہوتی ہے تو موجودہ حالات کا تذکرہ بھی ہوتا ہے، اور ہمارے اِدارہ میں اب کس کو کیا ذمہ داری ملی ہوئی ہے اور کس سے ذمہ داری واپس لی گئی ہے، اور یہ کہ جن لوگوں سے ذمہ داری واپس لی گئی ہے وہ نظر بھی کم آتے ہیں۔ کیا یہ باتیں کرنا غیبت تو نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مسلمان یا ذمی شخص کے متعلق اس کی غیر موجودگی میں برائی کی نیت سے کوئی بھی ایسی بات یا کام کرنا جو اس کی موجودگی میں اسے بری لگے اور نا گوار گزرے ’’غیبت‘‘ کہلاتا ہے، جو کہ نا صرف حرام ہے، بلکہ اس پر شدید وعید بھی وارد ہوئی ہے۔ 

لہذا صورتِ مسئولہ میں ادارہ کے بعض افراد کے بارے میں برائی کی نیت سے تبصرے کرنا اور ان کی کوتاہیوں کو بیان کرنا یقیناً غیبت میں داخل ہوگا۔ تاہم افراد کا ذکر کیے بغیر محض ادارہ کے موجودہ احوال کی اطلاع دینا یا برائی کی نیت کے بغیر مخصوص افراد کو ذمہ داریاں ملنے یا ان سے ذمہ داریاں واپس لیے جانے کے متعلق بیان کرنا غیبت میں تو داخل نہیں ہے، لیکن ایک لا یعنی اور بے فائدہ کام ہے جو کہ ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہے، لہذا اس سے بھی اجتناب ہی کرنا چاہیے۔

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"(وكذا) لا إثم عليه (لو ذكر مساوئ أخيه على وجه الاهتمام لا يكون غيبة إنما الغيبة أن يذكر على وجه الغضب يريد السب) . . . الغيبة أن تصف أخاك حال كونه غائبا بوصف يكرهه إذا سمعه. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال عليه الصلاة والسلام، «أتدرون ما الغيبة؟ قالوا الله ورسوله أعلم قال: ذكرك أخاك بما يكره قيل: أفرأيت إن كان في أخي ما أقول؟ قال: إن كان فيه ما تقول اغتبته، وإن لم يكن فيه فقد بهته».

(قوله لا يكون غيبة) لأنه لو بلغه لا يكرهه لأنه مهتم له متحزن ومتحسر عليه، لكن بشرط أن يكون صادقا في اهتمامه . . . قوله الغيبة أن تصف أخاك) أي المسلم ولو ميتا وكذا الذمي لأن له مالنا وعليه ما علينا . . . (قوله بما يكره) سواء كان نقصا في بدنه أو نسبه أو خلقه أو فعله أو قوله أو دينه حتى في ثوبه أو داره أو دابته كما في تبيين المحارم."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ٦/ ٤٠٨-٤١٠، ط: سعید)

فقط والله تعالى أعلم


فتویٰ نمبر : 144710101668

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں