
بعض لوگ کہتے ہیں کہ کسی گھر میں رہتے ہوئے اگر چالیس سال ہوجائے ،تو اس گھر کو فروخت کردینا چاہیے ،کیونکہ اس مدت کے بعد اس گھر میں مزید رہائش اختیار کرنا باعث خیر وبرکت نہیں ہوتا ،مختلف مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔
آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ آیا یہ بات شرعا درست ہے ؟اس قسم کا عقیدہ رکھنا شرعی اعتبار سے کیا حکم رکھتا ہے ؟
واضح رہے کہ کسی مکان یا زمین میں ایک خاص مدت گزر جانے کے بعد اسے منحوس سمجھنا، یا اس میں رہائش کو باعثِ خیر نہ سمجھنا، خالصۃً توہم پرستی اور جاہلیت کے دور کی بدشگونی ہے، جس کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔اور شریعتِ مطہرہ نے بدشگونی (طیرت) اور توہم پرستی کو باطل قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اسلام میں بدشگونی کی کوئی جگہ نہیں، کسی مکان، مہینے یا وقت میں نحوست کا عقیدہ رکھنا شرعی اعتبار سے لغو اور ناپسندیدہ ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ باتوں کا کوئی ثبوت قرۤن و سنت میں نہیں۔لہٰذا اس قسم کا عقیدہ رکھنا شرعا درست نہیں ہے ، اور کسی گھر میں خیر و برکت یا مصائب و مشکلات کا تعلق مکان کی عمر یا مدتِ رہائش سے نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے اپنے اعمال، عبادات اور تقویٰ پر موقوف ہے، اگر گھر میں نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کا اہتمام ہو اور گناهوں سے پرہیز کیا جائے، تو وہ گھر خیر و برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، نافرمانی اور گناہوں کی وجہ سے گھروں میں پریشانیاں آتی ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه:عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (لا عدوى ولا طيرة، ولا هامة ولا صفر)."
(كتاب الطب، باب: لا هامة، ولا صفر، ج:5، ص:2171، ط: دار إبن كثير)
سنن ابن ماجه میں ہے :
"عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الطيرة شرك وما منا إلا ولكن الله يذهبه بالتوكل".
(كتاب الطب ، باب من كان يعجبه الفأل ويكره الطيرة ،ج:2، ص: 1170، ط: دار إحياء الكتب العربية )
فیض القدیر میں ہے:
"(إن كان الشؤم) ضد اليمن مصدر تشاءمت وتيمنت قال الطيبي: واوه همزة خففت فصارت واوا ثم غلب عليها التخفيف ولم ينطق بها مهموزة (في شيء) من الأشياء المحسوسة حاصلا (ففي الدار والمرأة والفرس) يعني إن كان للشؤم وجود في شيء يكون في هذه الأشياء فإنها أقبل الأشياء له لكن لا وجود له فيها فلا وجود له أصلا ذكره عياض أي إن كان في شيء يكره ويخاف عاقبته ففي هذه الثلاث قال الطيبي: وعليه فالشؤم محمول على الكراهة التي سببها ما في الأشياء من مخالفة الشرع أو للطبع."
(حرف الهمزة، ج:3، ج:23، ط:المكتبة التجارية الكبرى ، مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101246
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن