بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گاؤں کے لوگوں کا گاؤں کی ہر لڑکی کا مہر متعین کرنے کا حکم


سوال

ایک گاؤں والوں نے یہ طے کیا کہ اس گاؤں میں جس لڑکی کی بھی شادی ہوگی، اس کا مہر 1 تولہ سونا ہوگا، تو کیا اس طرح کی تحدید کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟

جواب

 شریعت مطہر ہ نے لڑکی کے مہر کی تعین میں لڑکی کے خاندان کے طے کیے جانے والے مہر کو معیار بنایا ہے، یعنی دلہن کی ہم عمر چچا زاد یا تایا زاد بہنوں کا جو مہر عموماً رکھا جاتا ہو وہی مہر اس خاندان کا مہرمثل ہوتا ہے، ولی کی اجازت کے بغیر اس میں کمی کی اجازت نہیں دی ہے، پس اگر کوئی لڑکی اپنے مہر مثل سے کم کے عوض نکاح کر لیتی ہے، تو اس کے ولی کو اعتراض کا حق ہوتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں مہر کے حوالے سے شرعی تعلیم کے پاسداری کرنی چاہیے، مختلف خاندانوں کے افراد کا محض ایک گاؤں میں رہنے کی وجہ سے مہرطے کر لینا مناسب نہیں، تاہم اگر تمام افراد اپنے اپنے خاندانوں کے لیے ایک تولہ سونا مہر مثل مقرر کر لیتے ہیں، تو ایسا کرنے کی گنجائش ہوگی،  لیکن اس پر عمل کرنا لازم نہیں ہو گا،اور نکاح کے موقع پر باہمی رضامندی سے مذکورہ مہرمیں کمی و زیادتی کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔

فتاوی محمودیہ میں ہے:

 سوال (۵۸۷۲) : قوم کے سر بر آوردہ لوگوں نے یہ تجویز پاس کی ہے کہ آئندہ سب لوگوں کو اپنی اولاد کے نکاح ۲۵ / روپیہ سے زیادہ کی رقم پر نہ کرنا چاہئے ، چنانچہ تمام قوم اس کی پابند ہے، مخالف پر جرمانہ وغیرہ کیا جاتا ہے۔ تو تعیین مہر کا ان لوگوں کو حق ہے یا نہیں ، صحت نکاح میں کوئی خرابی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلياً :

مہر پچیس روپیہ یا اس سے زائد یا اس سے کم دس درہم تک مقرر کرنا جائز ہے اور بہر صورت نکاح صحیح ہو جاتا ہے۔ کم کی مقدار دس درہم شریعت کی جانب سے متعین ہے، زیادہ کی مقدار متعین نہیں، کسی اور کو انتہائی مقدار لازمی طور پر متعین کرنے کا حق حاصل نہیں ، نہ کسی کی تعیین سے متعین ہو سکتی ہے (۲)، البتہ زیادہ مہر مقررکرنا کچھ فضیلت کی بات نہیں، خصوصا جب کہ اس کی وسعت بھی نہ ہو:

"(عمر) قال في الخطبة : ألا ! لا تغالوا في صدقة النساء، فإن ذلك لو كان مكرمة في الدنيا و تقوى عند الله، كان أولكم رسول الله، ما أصدق رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم امرأة من نسائه ولا أصدقت امرأة من بناته أكثر من ثنتى عشرة أوقية. مجمع الفوائد."

مہر فاطمی مقرر کرنا افضل ہے، ورنہ کم از کم وسعت سے زیادہ مقرر نہ کیا جائے ، کیونکہ اس میں بہت سے مفاسد ہیں ۔ مال کا جرمانہ شرعاً جائز نہیں:قال ابن نجيم بعد بحث : " والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال". قوم کی اس تجویز سے نکاح میں کوئی خرابی نہیں آتی ۔ فقط واللہ سبحانہ تعالی اعلم ۔

 

(کتاب النکاح، باب المہر، ج:12، ص:37، ط:ادارۃ الفاروق کراچی)

مرقاۃالمفاتیح میں ہے:

"(وعن عائشة) رضي الله عنها (قالت: «قال النبي صلى الله عليه وسلم الله عليه وسلم: إن أعظم النكاح بركة») أي: أفراده وأنواعه (أيسره) أي: أقله أو أسهله، (مؤنة) أي: من المهر والنفقة للدلالة على القناعة التي هي كنز لا ينفد ولا يفنى".

(كتاب النكاح، ج:5،ص:2049، ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أقل المهر عشرة دراهم مضروبة أو غير مضروبة حتى يجوز وزن عشرة تبرا، وإن كانت قيمته أقل، كذا في التبيين، وغير الدراهم يقوم مقامها باعتبار القيمة وقت العقد في ظاهر الرواية".

( كتاب النكاح، الباب السابع، الفصل الأول في بيان مقدار المهر، ج:1، ص:302، ط:رشيديه) 

فتاوی شامی  میں ہے:

"(ولو نكحت بأقل من مهرها فللولي) العصبة (الاعتراض حتى يتم) مهر مثلها (أو يفرق) القاضي بينهما دفعا للعار.

(قوله الاعتراض) أفاد أن العقد صحيح. وتقدم أنها لو تزوجت غير كفء. فالمختار للفتوى رواية الحسن أنه لا يصح العقد، ولم أر من ذكر مثل هذه الرواية هنا، ومقتضاه أنه لا خلاف في صحة العقد، ولعل وجهه أنه يمكن الاستدراك هنا بإتمام مهر المثل، بخلاف عدم الكفاءة والله تعالى أعلم...(قوله دفعا للعار) أشار إلى الجواب عن قولهما ليس للولي الاعتراض. لأن ما زاد على عشرة دراهم حقها ومن أسقط حقه لا يعترض عليه ولأبي حنيفة أن الأولياء يفتخرون بغلاء المهور ويتعيرون بنقصانها فأشبه الكفاءة بحر والمتون على قول الإمام."

(کتاب النکاح،‌‌ باب الكفاءة، ج:3، ص:94، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100500

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں