
ہم تین بھائی ہیں ،جن میں سے دو کی شادی ہوچکی ہے اور ایک باقی ہے، والدین ابھی حیات ہیں ، والدین نے دونوں کو شادی ہونے کے بعد الگ کر دیا تھا اور رہنے کے لیے مکان دے دیا تھا کہ کھاؤ اور کماؤ، اب دونو ں بھائی الگ ہیں اور والدین کو اپنی کمائی میں سے کچھ رقم بھی نہیں دیتے،والدین کے پاس کچھ کھیتی ہے ، جس سے وہ اپنا گزر بسر کرتے ہیں اور تیسرے لڑکے کی شادی ہو نی ہے ، جس کا خرچ والدین خود اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور تیسرے لڑکے کے لیے وہ الگ سے مکان بھی بنا کر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اسی مکان میں وہ ، والدین خود رہتے ہیں اور اس مکان میں وہ دوسرے بھائیوں کے مکان سے زیادہ پیسہ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
تو کیا والدین کا اس مکان میں زیادہ پیسہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟
اور اسی طرح ایک لڑکے کو(مجھے) دوسرے بھائیوں سے زیادہ مال دینا درست ہے؟
اس طرح کرنے والے والدین گناہ گار تو نہیں ہوں گے ؟یا لینے والا ایک بھائی گناہ گار تو نہیں ہوگا؟
واضح رہے کہ والدین زندگی میں اپنی اولاد کو اپنے اموال میں سے جو کچھ دیں اس کا حکم ہبہ کا ہوتا ہے ، شریعت نے ہبہ میں تمام اولاد میں برابری کا حکم دیا ہے ، یعنی جتنا بیٹے کو دیا جائے اتنا ہی بیٹی کو بھی دیا جائے ، بلاوجہ کمی بیشی نہ کی جائے ، اور نہ ہی کسی کو محروم کیا جائے البتہ اگر اولاد میں سے کسی کو اس کے ضرورت مند ہونے یا زیادہ دین دار یا خدمت گزار ہونے کی بناءپراوروں کی بنسبت کچھ زیادہ دے دیا جائے تو جاز ہے، بشرطیکہ اس زیادتی سے اولاد میں سے کسی کو نقصان پہنچانا مقصد نہ ہو۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کےو الدین ، سائل کواس موقع پر دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ مال سائل کی خدمت یا حسن سلوک کی بناء پر دیتے ہیں ، یا سائل کے لیے تعمیر پر خرچ کرتے ہیں تو شرعاً جائز ہے ، گناہ گار نہیں ہوں گے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه."
(كتاب البيوع،باب،الفصل الأول،رقم الحديث:3019،ج:2، ص:909، ط:المكتب الإسلامي)
ترجمہ:"حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں منقول ہیں کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر) انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے (نعمان) کو ایک غلام عطا کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ "نہیں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " تو پھر (نعمان سے بھی) اس غلام کو واپس لے لو "۔
(مظاہر حق ،جلد سوم، ص :215،ط :مکتبہ رحمانیہ)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره."
(کتاب الہبۃ،باب فی الہبۃ للصغیر ،ج :4 ، ص :391 ،ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
البحر الرائق میں ہے :
"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم."
(کتاب الہبۃ ،ج :7 ، ص :288 ، ط :دار الكتاب الإسلامي)
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101338
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن