
میری بیوی آغا خان ہسپتال میں داخل تھیں۔ ان کے علاج پر جو بل بنا، ہم نے وہ بلا تکلف ادا کر دیا۔ تقریباً آٹھ دس دن بعد میرے داماد نے اپنے ایک دوست ڈاکٹر (جو کہ آغاخان ہسپتال میں ہوتے ہیں) سے بات کی، تو اس ڈاکٹر نے میری بیوی کو فیملی ممبر ظاہر کر کے ہسپتال سے کچھ رقم بطور ڈسکاؤنٹ واپس حاصل کر لی۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا یہ رقم ہمارے لیے حلال اور جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جو رقم لی گئی ہے، چوں کہ وہ غیر ممبر کو ممبر ظاہر کرکے حاصل کی گئی ہے، اس لیے یہ رقم حلال نہیں۔ اس کو واپس کرنا واجب ہے۔
تفسیرقرطبی میں ہے:
"ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام لتأكلوا فريقا من أموال الناس بالإثم وأنتم تعلمون" (188)
فيه ثماني مسائل:....الثانية- الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم، والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه، كهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك....الثالثة- من أخذ مال غيره لا على وجه إذن الشرع فقد أكله بالباطل."
(سورة البقرة (2): آية 188، ج:2، ص:337، ط:دار الکتب المصرية)
مسند احمد میں ہے:
"عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."
( ج: 36، صفحه: 504، رقم الحدیث: 22170، ط: مؤسسة الرسالة)
”حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ اللہ کےرسول ﷺ نےفرمایا:مومن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔“
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا."
(کتاب الإیمان، باب قول النبي صلى الله عليه تعالى وسلم: من غشنا فليس منا، 69/1، ط:دار الطباعة العامرة)
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ اللہ کےرسول ﷺ نےفرمایا:جس نےہم پراسلحہ اٹھایاوہ ہم میں سےنہیں، اورجس نےہمیں دھوکہ دیا وہ (بھی) ہم میں سےنہیں۔“
فتاوی شامی میں ہے:
"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه."
(کتاب البیوع، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج:5، ص:99، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101981
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن