بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی میں بطور مضاربت کام کرنے کے اصول اور طے شدہ منافع کے ساتھ تنخواہ لینے کا حکم؟


سوال

1۔کسی کمپنی میں بطور مضاربت کام کرنے کے اصول  کیا ہیں؟

2۔طے شدہ منافع کے ساتھ تنخواہ لینے کا کیاحکم ہے؟

جواب

1۔مضابت میں ایک فریق کی طرف سے سرمایہ ہوتا ہے اور دوسرے فریق کی جانب سے عمل اور محنت ہوتی ہے،جس کے بنیادی اصول درج ذیل ہیں:

  1. مضاربت  میں سرمایہ اور کاروبار حلال ہو۔
  2. معاملہ میں کوئی شرطِ فاسد نہ ہو۔
  3. مضاربت میں سرمایہ کا نقدی ہونا ضروری ہے۔
  4. منافع دونوں فریقوں میں فیصد کے حساب سے طے شدہ ہو،اگر  عقد مضاربت میں ایک مخصوص رقم منافع کے طور پر طے کر دی جائے تو یہ عقد فاسد ہوجاتا ہے۔
  5.  اگر مضاربت میں نقصان ہوگیا تواس کو پہلے حاصل شدہ نفع سے پورا کیا جائے گا، اگر اس سے بڑھ گیا تو وہ رب المال کے ذمہ ہوگا اور اصل سرمایہ سے پورا کیا جائے گا، مضارب کو نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا جائز نہیں، بلکہ نقصان کی صورت میں سرمایہ کار نقصان برداشت کرے گا اور مضارب کی محنت رائیگاں جائے  گی،  مضارب امین کی حیثیت سے کام کرے گا۔
  6. کمپنی کا واقعی اور حقیقی کاروبار موجود ہو،کیوں کہ آجکل بہت ساری کمپنیاں مضاربت کا طریقہ دھوکہ دہی اور لوگوں کی رقم ہڑپ کرنے کے لیے بھی استعمال کررہی ہیں۔

2۔مضاربت کے معاملہ میں ورکنک پارٹنر کے لیے  نفع کے ساتھ ماہانہ تنخواہ مقرر کرنا  جائز نہیں ہے، اس لیے کہ ورکنگ پارٹنر نفع ہونے کی صورت میں شریک ہوگا، اور شریک کی تنخواہ مقرر کرنا   گویا اس کو اجیر بنانا ہے، اور شریک کا اجیر بننا جائز نہیں ہے، یعنی شرکت اور اجارہ دونوں مختلف عقود ایک  ہی عقد میں جمع نہیں ہوسکتے۔

 بدائع الصنائع میں ہے:

’’ وأما الذي یرجع إلی رأس المال فأنواع:منھا:أن یکون رأس المال من الدراھم أو الدنانیر عند عامۃ العلماء، فلا تجوز المضاربۃ بالعروض.ومنھا:أن یکون معلومًا، فإن کان مجھولا لا تصح المضاربۃ.ومنھا:أن یکون رأس المال عینًا ولا دینًا.ومنھا:تسلیم رأس المال إلی المضارب.ومنھا:أعلام مقدار الربح لأن المعقود علیہ ھو الربح.ومنھا:أن یکون المشروط لکل واحد منھا من المضارب ورب المال من الربح جزءً شائعًا، نصفا أو ثلثا أو ربعا."

(کتاب المضاربۃ، فصل فی شرائط رکن المضاربۃ، ج6، ص85,84,83,82، ط:دارالکتب العلمیۃ)

تبیین الحقائق میں ہے: 

"قال - رحمه الله - (وما هلك من مال المضاربة فمن الربح)؛ لأنه تابع ورأس المال أصل لتصور وجوده بدون الربح لا العكس فوجب صرف الهالك إلى التبع لاستحالة بقائه بدون الأصل كما يصرف الهالك العفو في الزكاة قال - رحمه الله - (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن المضارب)؛ لأنه أمين فلا يكون ضمينا للتنافي بينهما في شيء واحد".

(کتاب المضاربة، باب المضارب یضارب، ج: 5، ص: 67، ط:المطبعة الكبرى الأميرية ) 

فتاوی شامی   میں ہے:

"(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن) لما مر".

(کتاب المضاربة، باب المضارب یضارب، فصل فی المتفرقات فی المضاربة، ج:5، ص:656، ط:سعید)

و فيه أيضاً:

"ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت."

 

( كتاب المضاربة، ج:5، ص:648، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وأما الشروط) الفاسدة فمنها ما تبطل المضاربة ومنها ما لا تبطلها بنفسها إذا قال رب المال للمضارب لك ثلث الربح وعشرة دراهم في كل شهر عملت فيه للمضاربة فالمضاربة جائزة والشرط باطل كذا في النهاية."

(كتاب المضاربة، الباب الأول في تفسيرها وركنها وشرائطها وحكمها، ج:4، ص:287، ط:دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101121

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں