
ایک کمپنی ہے اس نے بینک کی نوکریاں ٹھیکے پہ لی ہوئی ہیںِ، اب اگر کوئی بندہ اس کمپنی کے واسطے سے بینک میں نوکری کرے اور اس کو تنخواہ اس کمپنی کی طرف سے ملتی ہے تو کیا اس کی بینک میں ملازمت درست ہے یا نہیں۔
بینک کی ملازمت ناجائز ہے، اور اس ملازمت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی آمدن بھی ناجائز ہے،کیوں کہ بینک کا مدار سودی لین دین پر ہے اور سودی لین دین کرنے والے اور اس موقع پر گواہ بننے والے اور لکھت پڑھت کا حصہ بننے والوں پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی ہے، نیز قرآنِ مجید میں گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کے تعاون سے روکا گیا ہے، اور تعاون کی صورت میں عذاب سے ڈرایا گیا ہے، جب کہ بینک میں ملازمت کرنے سے سودی اور ناجائز معاملات و غیر شرعی عقود میں تعاون کرنا ، اس کی لکھت پڑھت کرنا اور گواہ بننا لازم آتا ہے ؛ لہٰذا باعثِ لعنت کام کرکے، یا گناہ کے کام میں تعاون کرکے اس کی اجرت لینا جائز نہیں؛لھذا صورت مسئولہ میں کمپنی کے ملازم کا تعلق اگرچہ اپنی کمپنی سے ہے اور ا س کو تنخواہ کمپنی ہی دے گی ،لیکن پھر بھی مذکورہ کمپنی کے ذریعہ بینک کے لیے مستقل خدمات انجام بھی مذکورہ مفاسد(سودی اور ناجائز معاملات و غیر شرعی عقود میں تعاون کرنا ، اس کی لکھت پڑھت کرنا اور گواہ بننا) کی بنا پر شرعاًجائز نہیں ہے، مزید یہ کہ تنخواہ بھی بینک سے ملنے والی رقم سے دی جاتی ہے اور حرام رقم سے تنخواہ لینا جائز نہیں ہے۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"عن جابر - رضي الله عنه - قال: لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: (هم سواء) رواه مسلم.
ترجمہ:"حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں"
(عن جابر قال:لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - آكل الربا)أي: آخذه وإن لم يأكل، وإنما خص بالأكل لأنه أعظم أنواع الانتفاع۔۔۔۔۔(ومؤكله)۔۔۔أي: معطيه لمن يأخذه، وإن لم يأكل منه نظرا إلى أن الأكل هو الأغلب أو الأعظم كما تقدم۔۔۔(هم سواء) ، أي: في أصل الإثم، وإن كانوا مختلفين في قدره۔۔۔الخ."
(کتاب البیوع، باب الربوا، الفصل الاول، ج: 5، ص: 1915، ط: دارالفکر)
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
"{ولا تعاونوا على الاثم و العدوان}، یأمر تعالی عبادہ المؤمنین بالمعاونة علی فعل الخیرات وهوالبر و ترك المنکرات و هو التقوی، و ینهاهم عن التناصر علی الباطل و التعاون علی المآثم والمحارم".
(تفسیر ابن کثیر، ج:2، ص:10، ط:دارالسلام)
فتاوی شامی میں ہے:
"کل ما یؤدي إلی ما لایجوز لایجوز".
(ردالمحتار علی الدرالمختار، ج:6، ص:360، ط:ایچ ایم سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101734
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن