
انسان کسی چیز کامالک کیسے بنتا ہے ، اور وہ کون کون سے اسباب ہے جن کی بنا پر انسان کسی چیز کا مالک بنتا ہے اور ملکیت زائل کب ہوتی ہے ؟
واضح رہے کہ شریعت میں انسان کسی چیز کا مالک مختلف اسباب کی بناء پر ہوتا ہے،جن میں سے اکثر وبیشتر پیش آمدہ اسباب درج ذیل ہیں:
1- خرید و فروخت: انسان کسی سے باہمی رضا مندی کے ساتھ کوئی چیزخریدتا ہے تو وہ اس کی ملکیت میں آجاتی ہے اور خریدنے والا اس چیز کا مالک بن جاتا ہے۔
2- ہبہ:یعنی کوئی چیز کسی کو مالک بنا کر دی جاۓ یعنی ہبہ (گفٹ) کی جاۓ تو جسے ہبہ ( یعنی گفٹ) کی گئی ہے وہ شخص اس چیز کا مالک بن جاتا ہے۔
3- وراثت: جب کسی شخص کا انتقال ہوجاتا ہے، تو اس کا چھوڑا ہوا مال اس کے شرعی ورثاءکے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے ، تو اس طرح وہ ورثاء اس مال کے مالک بن جاتا ہے۔
4-اللہ تعالی کی جانب سے ہر انسان کے لیے مباح کی جانی والی اشیاء:جیسے وہ چراہ گاہیں،جنگلات ،شکار،اور تالاب وغیرہ جو کسی کی ملکیت میں نہ ہوں اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے انسان جب انہیں اپنےقبضے میں لے لے، تو وہ ان کا مالک بن جاتا ہے۔
5۔جہاد میں مسلمانوں کو کفار پر غلبہ حاصل ہونے کے بعد ان کے چھوڑے ہوۓ مال کو غنیمت کے طور مسلمان جب اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں تو اس صورت میں بھی وہ مال کے مالک بن جاتے ہیں۔
اور کسی چیز کے ملکیت میں آنے کے بعد اس چیز سے ملکیت کے زائل ہونے کی بھی مختلف صورتیں ہیں،جیسے کہ خود انسان کسی چیز کو اپنی اختیار سے فروخت کردے،یا کسی کو ہبہ کردے،یا انسان کا انتقال ہوجاے وغیرہ وغیرہ۔
اگرکسی خاص صورت کاحکم دریافت کرناہوتواس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك"
(كتاب إحياء الموات، کتاب الصید، ج: 6، ص: 463، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144410100874
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن