بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عملیات کے ذریعے رشتے کے لیے مائل کرنا


سوال

(1)ایک لڑکا اور ایک لڑکی آپس میں محبت کرتے ہیں، اور اس لڑکے اور لڑکی کا رشتہ کہیں اور ہو چکا ہے، مگر اس کے باوجود لڑکا تعویذات وغیرہ کے ذریعہ یا پڑھائی وغیرہ کے ذریعہ اس لڑکی کے پیچھے لگتا ہے، تو کیا اس لڑکے کا اس طرح کے افعال کرنا جائز ہے؟ اس مسئلہ کا کیا حکم ہے؟

(2)اسی طرح ایک لڑکا اور ایک لڑکی آپس میں محبت کرتے ہیں، اور لڑکے کے گھر والے راضی ہیں، مگر لڑکی کے گھر والے راضی نہیں ہیں، تو لڑکی اپنے گھر والوں کو منانے کے لیے وظائف وغیرہ کا عمل کرتی ہے، تو کیا یہ درست ہے؟ اور اس صورت میں نہ لڑکے کا کہیں اور رشتہ ہوا ہے، اور نہ لڑکی کا کہیں رشتہ ہوا ہے، تو کیا حکم ہے؟

جواب

(1) جب لڑکی کا رشتہ کہیں اور طے ہو چکا ہو، تو شرعاً اس کے لیے رشتہ کا پیغام دینا بھی جائز نہیں، چہ جائیکہ تعویذات یا عملیات کے ذریعے اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جائے، یہ ناجائز اور گناہ ہے۔

(2)  دوسری صورت میں اگر چہ لڑکی کا رشتہ کہیں اور نہیں ہوا، پھر بھی اسے راضی کرنے کے لیے ایسا تعویذ یا عمل کرنا جس سے اس کی عقل ماؤف ہو جائے اور وہ مسخر ہو جائے، یہ جائز نہیں،اگر تعویذ میں شرکیہ کلمات ہوں یا غیراللہ سے مدد مانگی جائے تو یہ کفر تک پہنچ سکتا ہے،البتہ اگرآیاتِ قرآنیہ، ادعیہ ماثورہ یا کلماتِ صحیحہ پر مشتمل وظیفہ ہو، اور اس میں کوئی خلافِ شرع بات نہ ہو، اور نیت صرف خیر  کی ہو، تو ایسی صورت میں اس کی گنجائش ہے، بشرطیکہ ان کلمات کو مؤثر بالذات نہ سمجھا جائے،تاہم اس طرح کے عمل کو شریعت میں پسند نہیں کیا گیا۔

البحر الرائق میں ہے:

"وعلم منه حرمة خطبة المنكوحة بالأولى وتحرم تصريحا وتعريضا كما في البدائع وقيد بالمعتدة؛ لأن الخالية عن نكاح وعدة تحل خطبتها تصريحا وتعريضا لجواز نكاحها لكن بشرط ‌أن ‌لا ‌يخطبها ‌غيره قبله، فإن خطبها فعلى ثلاثة أوجه:إما أن تصرح بالرضا فتحرم أو بالرد فتحل أو تسكت فقولان للعلماء ولم أر هذا التفصيل لأصحابنا وأصله الحديث الصحيح «لا يخطب أحدكم على خطبة أخيه» وقيدوه بأن لا يأذن له."

(كتاب الطلاق، باب العدة، فصل في الإحداد، ج: 4، ص: 164، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قال في الخانية: امرأة تصنع آيات التعويذ ‌ليحبها ‌زوجها بعد ما كان يبغضها ذكر في الجامع الصغير: أن ذلك حرام ولا يحل اهـ وذكر ابن وهبان في توجيهه: أنه ضرب من السحر والسحر حرام اهـ ط ومقتضاة أنه ليس مجرد كتابة آيات، بل فيه شيء زائد قال الزيلعي: وعن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه أنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الرقى والتمائم والتولة شرك. رواه أبو داود وابن ماجه والتولة أي بوزن عنبة ضرب من السحر قال الأصمعي: هو تحبيب المرأة إلى زوجها، وعن «عروة بن مالك رضي الله عنه أنه قال: كنا في الجاهلية نرقي فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال اعرضوا علي رقاكم لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك» رواه مسلم وأبو داود اهـ وتمامه فيه وقدمنا شيئا من ذلك قبيل فصل النظر وبه اندفع تنظير ابن الشحنة في كون التعويذ ضربا من السحر."

(كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 429، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100505

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں