
ایک شخص ایک مقام سے دوسرے مقام(جو کہ 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے) اس نیت سے جائے کہ اگر اسے وہاں سواری مل گئی تو وہ تیسرے مقام(جو کہ پہلے اور دوسرے مقام سے سفر کی مسافت پر ہے) چلا جائے گا، اور اگر دوسرے مقام میں سواری نہ ملی تو واپس پہلے مقام آجائے گا اور اسے دوسرے مقام میں سواری نہ ملی اور واپس پہلے مقام پہ آگیا، ایسی صورت میں وہ دوسرے مقام میں مسافر شمار ہوگا یا نہیں؟اور اگر دوسرے مقام میں میں امامت کرائے تو کون سی نماز پڑھائے گا؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص جب تک دوسرے مقام سے تیسرے مقام کی طرف سفر شروع نہ کرے اس وقت تک وہ شرعی مسافر شمار نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کے لیے قصر کرنا جائز ہوگا اور اگر اس تیسرے مقام کا سفر شروع کرنے سے پہلے پہلے مذکورہ شخص کسی جگہ نماز کی امامت کرالیتا ہے تو وہ پوری نماز ہی پڑھائے گا۔
المحیط البرہانی میں ہے:
"ويقصر إذا جاوز عمرانات المصر قاصداً مسيرة ثلاثة أيام ولياليها."
(کتاب الصلاۃ، الفصل الثاني والعشرون، ج:2، ص:25، ط:دار الکتب العلمیة)
وفیه أیضاً:
"فإن قيل: هذا اختيار أول أرض الحرب ويجوز أن يجاوز، ويجوز أن لا يجاوز، فيثبت من المدينة القريبة أول أرض الحرب قدر مسيرة يومين أو ثلاثة أيام أو زيادة على ذلك.قلنا: قصد الوالي إلى أرض الحرب ليس معلوم يجوز أن يجاوز، ويجوز أن لا يجاوز فيثبت من أهل المدينة البعيدة قصد مجاوزة أول أرض الحرب على أحد الاعتبارين، فكانوا قاصدين مسيرة السفر من وجه دون وجه، فلا يثبت قصد مسيرة السفر بالشك وبدونه لا يثبت إباحة القصر."
(کتاب الصلاۃ، الفصل الثاني والعشرون، ج:2، ص:32، ط:دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101037
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن