
ہماری سائٹ ایریا میں ایک فیکٹری ہے مال رنگنے والی، ہم لوگوں کا مال رنگ کر ان کے حوالے کرتے ہیں۔
ابھی جمعرات والے دن اس فیکٹری میں آگ لگ گئی اور اس میں پڑا ہوا لوگوں کا مال جل گیا وہ مال ابھی تک رنگا ہوا نہیں تھا۔
ہم نے یہ بات واضح طور پر لکھی ہوئی تھی کہ کسی ناگہانی آفت یا حادثے کی صورت میں گرے مال کی جواب داری انتظامیہ پر نہیں ہوگی، اور ساتھ میں یہ بھی لکھا تھا کہ انڈسٹری نے کوئی انشورنس نہیں کروا رکھی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس ناگہانی آفت کی وجہ سے لوگوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کی ذمہ داری ہم پر ہوگی؟
صورت مسئولہ میں اگرفیکٹری میں واقعتاناگہانی آگ لگنے کی وجہ ہی سے لوگوں کا مال ضائع ہوا ہے تو انڈسٹری کی انتظامیہ پر شرعاً اس کا ضمان لازم نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله ولا يضمن إلخ) اعلم أن الهلاك إما بفعل الأجير أو لا، والأول إما بالتعدي أو لا. والثاني إما أن يمكن الاحتراز عنه أو لا، ففي الأول بقسميه يضمن اتفاقا. وفي ثاني الثاني لا يضمن اتفاقا وفي أوله لا يضمن عند الإمام مطلقا ويضمن عندهما مطلقا. وأفتى المتأخرون بالصلح على نصف القيمة مطلقا، وقيل إن مصلحا لا يضمن وإن غير مصلح ضمن، وإن مستورا فالصلح اهـ ح والمراد بالإطلاق في الموضعين المصلح وغيره.
مطلب يفتى بالقياس على قوله وفي البدائع: لا يضمن عنده ما هلك بغير صنعه قبل العمل أو بعده؛ لأنه أمانة في يده وهو القياس. وقالا يضمن إلا من حرق غالب أو لصوص مكابرين وهو استحسان اهـ. قال في الخيرية: فهذه أربعة أقوال كلها مصححة مفتى بها، وما أحسن التفصيل الأخير والأول قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -. وقال بعضهم: قول أبي حنيفة قول عطاء وطاوس وهما من كبار التابعين، وقولهما قول عمر وعلي وبه يفتى احتشاما لعمر وعلي صيانة لأموال الناس، والله أعلم اهـ. وفي التبيين: وبقولهما يفتى لتغير أحوال الناس، وبه يحصل صيانة أموالهم اهـ.؛ لأنه إذا علم أنه لا يضمن ربما يدعي أنه سرق أو ضاع من يده."
(کتاب الإجارۃ، باب ضمان الأجیر، ج:5،ص:65،ط:دار الفکر)
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101330
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن