
مرد نے اپنی بیوی سے کہا کہ "میں اگرکسی دوسری عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق"آیا اب ہر عورت سے نکاح کرتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی یا صرف پہلی عورت کو ہی طلاق ہوگی ؟
صورت مسئولہ میں پہلی مرتبہ کسی دوسری عورت سے نکاح کرے گا، تو اس کو طلاق واقع ہوجائے گی اور شرط کا وقوع بھی ہوجائےگا، اس کے بعد دوبارہ کسی عورت سے شادی کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی، اور اگر دوسری عورت کو رکھنا چاہتا ہے، تو دوبارہ تجدیدِ نکاح کر لے، اور آئندہ کے لیے شوہر صرف دو طلاق کا مالک رہے گا۔
العنایۃ فی شرح فتح القدیر میں ہے:
"(وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق، وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط) لأن الأصل بقاء الشيء على ما كان وهو استصحاب الحال."
(كتاب الطلاق، ج:4، ص:116، ط:دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100908
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن