
میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں،کمپنی کی طرف سے ہمیں شہر سے باہر رہائش فراہم کی جاتی ہے،رہائش کا پورا خرچہ کمپنی برداشت کرتی ہے،نیز کمپنی کی طرف سے رہائش کے خرچہ کا کوئی مقدار متعین نہیں ہے،بلکہ جتنا بھی خرچہ آتا ہے،ہم اس کا بل کمپنی جمع کردیتے ہیں،میں جہاں رہتاہوں وہاں میں 1800 ریال دیتاہوں اور کمپنی کو 1800 ریال کا بل بناکر بھیجتاہوں؛بعد میں وہ مالک مکان مجھے 600 ریال گفٹ (ہدیہ)کے طور پر واپس کرتا ہے۔
تو کیا شرعی اعتبار سے یہ ہدیہ لینا میرے لیے جائز ہے؟رہنمائی فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں!
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کے رہائش کا خرچہ 1800 ریال ہو، اور وہ اسی رقم کا بل بنا کر کمپنی کو بھیجتا ہو، نیز یہ پوری رقم مالکِ مکان کو ادا کرتا ہو، پھر مالکِ مکان اس رقم پر قبضہ کرنے کے بعد اپنی رضامندی سے بطورِ ہدیہ 600 ریال سائل کو واپس کر دے، تو سائل کے لیے اس رقم کا لینا جائز اور حلال ہوگا۔
البتہ اگر مالکِ مکان کے ساتھ یہ بات طے ہو کہ وہ 600 ریال واپس کرےگا،اور اس معاملہ کے ذریعے محض جعلسازی کر کےکمپنی سے زیادہ رقم وصول کرنا مقصود ہو،تو شرعاً ایسا کرنا دھوکہ دہی اور جھوٹ کی بناء پر جائز نہیں ہے ،اور اس طرح حاصل کی جانے والی رقم بھی جائز نہیں ہے ، یہ رقم کمپنی کو واپس کردی جائے اور واپس کرنا ممکن نہ ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر مستحق افراد کو دے دی جائے ۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا".
(كتاب الإيمان،باب قول النبي صلى الله عليه وسلم: من غشنا فليس منا،ج:1،ص: 99،ط: دار إحياء التراث العربي)
درر الحکام میں ہے:
"(وتتم) عطف على تصح (بالقبض) قال الإمام حميد الدين ركن الهبة الإيجاب في حق الواهب؛ لأنه تبرع فيتم من جهة المتبرع أما في حق الموهوب له فلا يتم إلا بالقبول ثم لا ينفذ ملكه فيه إلا بالقبض (الكامل) الممكن في الموهوب."
(كتاب الهبة،ج: 2،ص: 218،ط: دار إحياء الكتب العربية)
حاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه".
(كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،مطلب فيمن ورث مالا حراما،ج: 5،ص: 99، ط: سعيد)
معارف السنن میں ہے:
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة وغیرها: أن من ملك بملك خبیث، ولم یمكنه الرد إلى المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء ... قال: و الظاهر أن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته ولایرجو به المثوبة، نعم يرجوها بالعمل بأمر الشارع."
(أبواب الطهارة، باب ما جاء: لاتقبل صلاة بغیر طهور،ج: 1،ص: 34،ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101789
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن