بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ پر دیے ہوئے گھر اور اس سے حاصل ہونے والی رقم پر زکات کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنا ایک گھر کرایہ پر دیا ہوا ہے، اور گزشتہ دو سال سے کرایہ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم فوراً اپنے قرض کی ادائیگی میں صرف کر تے رہے، اب قرض ختم ہو گیا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان دو سالوں کے دوران جو کرایہ وصول کیا اور اس  کی زکات ادا نہیں کی ہے، تو کیا اب ان دو سالوں کے کرایہ کی رقم کی زکات کی ادائیگی اس شخص پر لازم ہے یا نہیں؟ آئندہ ادائیگی کا کیا حکم ہے؟ نیز مذکورہ گھر پر زکات ہے یا نہیں؟

وضاحت:  مذکورہ شخص صاحبِ نصاب نہیں تھے، اور اب بھی صاحبِ نصاب نہیں ہے۔

مذکورہ گھر تجارت کی غرض سے نہیں لیا تھا، بلکہ ذاتی رہائش کے لیے لیا تھا، اب کرایہ پر دیا ہے، اور فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ شخص صاحبِ نصاب نہیں ہے، جس کی بنا پر گزشتہ دو سالوں کی زکات واجب الادا نہیں ہے، البتہ آئندہ اگر کرایہ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم تنہا یادیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب (ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی قیمت) کو پہنچ جائے، اور اس پر سال بھی گزر جائے، تو  سال مکمل ہونے پر جو رقم موجود ہو اس کی زکات لازم ہوگی،  اور سال بھر میں جتنا کرایہ استعمال کرلیا اس پر کوئی زکات لازم نہیں ہوگی۔ نیز  صورتِ مسئولہ میں مذکورہ گھر  کی قیمت پر بھی زکات واجب نہیں ہے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز... (ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة... (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع و ضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وجب بخلع أو صلح عن دم عمد، وهو حال أو مؤجل أو لله - تعالى - كدين الزكاة".

(كتاب الزكاة، الباب الأول، ج:1، ص:172، ط:دار الفكر)

و فيه أىضا:

"ولو فضل من النصابين أقل من أربعة مثاقيل، وأقل من أربعين درهما فإنه تضم إحدى الزيادتين إلى الأخرى حتى يتم أربعين درهما أو أربعة مثاقيل ذهبا كذا في المضمرات. ولو ضم أحد النصابين إلى الأخرى حتى يؤدي كله من الذهب أو من الفضة لا بأس به لكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء قدرا ورواجا... الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية".

(كتاب الزكاة، الباب الثالث، الفصل الثاني، ج:1، ص:179، ط:دار الفكر)

فتاوی تاترخانیہ میں ہے:

"ثم نية التجارة لا تعمل ما لم ينضم إليه الفعل بالبيع، أو الشراء، أو السوم فيما يسام، حتى أن من كان له عبد للخدمة، أو ثياب البذلة نوى فيها التجارة لم تكن للتجارة، حتى يبيعها فتكون في الثمن الزكاة مع ماله من المال... وفى الكبرى: إذا اشترى دارا، أو عبدا للتجارة فآجره خرج من أن يكون للتجارة؛ لأنه لما آجره فقد قصد الغلة فخرج عن حكم التجارة".

(كتاب الزكاة، الفصل الثالث، ج:3، ص:166-167، ط:متكبة زكريا بديوبند)

فتاوی قاضی خان میں ہے:

"إذا آجر داره أو عبده بمائتي درهم لاتجب الزكوة ما لم يحل الحول بعد القبض في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى، فإن كانت الدار والعبد للتجارة، وقبض أربعين درهماً بعد الحول كان عليه درهم بحکم الحول الماضي قبل القبض؛ لأن أجرة دار التجارة وعبد التجارة بمنزلة ثمن مال التجارة في الصحيح من الرواية".

(كتاب الزكاة،  فصل في مال التجاره،  ج:1، ص:223، ط:دار الكتب العلمية)

و فيه أيضا:

"لو اشتري الرجل دارًا أو عبدًا للتجارة، ثم أجره يخرج من أن يكون للتجارة؛ لأنه لما آجر فقد قصد المنفعة،  ولو اشتری قدرواً من صفر یمسکھا أو یوٴواجرھا لا تجب فیھا الزکاة کما لا تجب في بیوت الغلة... و يعتبر في الزكاة كمال النصاب في طرفي الحول و عدم الانقطاع فيما بين ذلك".

(كتاب الزكاة،  فصل في مال التجاره،  ج:1، ص:221، ط:دار الكتب العلمية)

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101449

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں