بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ دار کا مالک مکان سے ناحق رقم مانگنے کا حکم


سوال

میں نے اپنا ایک مکان (جو کہ مکمل دستاویز کے ساتھ میرے نام پر ہے) اپنے ایک دوست کو تقریباً 30 سال قبل کرایہ پر دیا تھا، جس کا اب تک مجھے بدستور کرایہ آرہا ہے، میرے  دوست کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرے انتقال کے بعد بھی میرے بچوں کو اس گھر میں  رہنے دیا جائے جس  پر میں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ بعد میں آپ کے بچے لڑائی وغیرہ کریں۔ بالآخر اس دوست کا انتقال ہوا۔ اب مجھے خود اس مکان کی ضرورت ہے، اور میں نے ان کے بچوں  سے مکان خالی کرنے کا کہا ، تو انہوں نے پہلے حامی بھری تھی کہ خالی کردیں گے، بعد میں ٹال مٹول کرتے رہے، اور اب  مجھ سے مکان خالی کرنے کے بدلے میں رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔

کیا  کرایہ داروں  کا مکان خالی کرنے میں ٹال مٹول سے کام لینا شرعاً جائز ہے ؟ اور کیا کرایہ دار کو مکان کے مالک (سائل)سے مکان خالی کرنے کے عوض میں رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں  مذکورہ مکان چوں کہ سائل کا ہے، اور وہ ضرورت کے پیش نظر اپنا مکان خالی کروانا چاہتا ہے ، تو شرعاً اسے خالی کرانے کا حق حاصل ہے،  دوست کی اولاد کا مکان خالی کرنے میں ٹال مٹول کرنا اور خالی کرنے کے عوض رقم مانگنا شرعاً ناجائز و حرام ہے،چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ  خبردار اے مسلمانو! ظلم نہ کیا کرو، اور یاد رکھو کسی شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر دوسرے شخص کے لیے حلال نہیں ہے۔

لہذا سائل کے دوست کی اولاد     پر لازم ہے  کہ وہ مالک مکان کو اس کا مکان واپس کر دیں، بصورت دیگر مکان پر ناحق قبضہ کیے رکھنے کی وجہ سے حدیث میں  وارد سخت وعیدکے مستوجب ہوں گے، ارشاد نبوی ہے کہ جس شخص نے ناحق ایک بالشت زمین ہتھیائی تو روز قیامت اتنی ہی زمین سات زمینوں سمیت طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دی جائے گی، لہذا آخرت کی رسوائی کا سامان انتہائی خسران کا سودا ہو گا۔

حدیث شریف میں ہے:

"قال رسول الله صلی الله علیه و سلم: ألا لاتظلموا، ألا لایحل مال امرء إلا بطیب نفس منه".

(مشکوٰۃ المصابیح، ج:1، ص:255، ط:قدیمی)

مشکاۃ المصابیح میں ہے: 

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين ."

(كتاب البيوع ، باب الغصب والعارية ، الفصل الأول، ج:1، ص:254، ط:قديمي)

فتاوی شامی میں ہے:

"لا ‌يجوز ‌لأحد ‌من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(کتاب الحدود، باب التعزیر، ج:4، ص: 61، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101298

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں