بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ دار کا دکان آگے کرایہ پر دینا اور زائد رقم کا حکم


سوال

ایک شخص نے ایک دکان ساڑھے تین لاکھ روپے سالانہ کرایہ پر لی اور یہ کرایہ مالک کو ادا بھی کر دیا، ليكن کسی وجہ سے وہ خود دکان میں کام کرنے سے عاجز ہوگیا، تو اس نے وہی دکان آگے کسی دوسرے شخص کو پانچ لاکھ روپے سالانہ کرایہ پر دے دی۔ اس طرح وہ ڈیڑھ لاکھ روپے زائد لے رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے یہ زائد رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا اس کے جواز کی کوئی صورت نکل سکتی ہے؟

جب کہ اصل مالک کو اس معاملے کی خبر نہیں ہے، بلکہ یہ کرایہ دار مالک سے یہ کہتا ہے کہ جس شخص کو دکان دی گئی ہے، وہ اس کے ساتھ شرکت میں کام کر رہا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ جب اجارہ مکمل ہو جائے تو کرایہ دار منفعت کا مالک ہو جاتا ہے، چاہے وہ خود استعمال کرے یا کسی دوسرے کو کرایہ پر استعمال كرنے كےليے دے۔ البتہ اگر دوسرے شخص کے استعمال کرنے كی   وجہ  سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں پہلا کرایہ دار اسے آگے کرایہ پر نہیں دے سکتا۔

نیز  کرایہ دار نے جو چیز کرایہ پر لی ہواگر اس میں کوئی ترمیم نہ کی ہو، مثلاً  ٹائلز /ماربل وغیرہ نہ لگوائے ہوں ،رنگ و روغن نہ کیا ہو یا الماری وغیرہ نہ بنائی ہو، تو آگے کرایہ پر دینے کی صورت میں شریعت  مطرہ نے اسے پابند کیا ہے کہ اصل مالک نے جو کرایہ طے کیا تھا،اس سے زائد کرایہ دوسرے کرایہ دار سے طلب نہ کرے، اگر اس نے اضافی رقم لے لی تو اس صورت میں زائد رقم کو صدقہ کرنا لازم ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر پہلے کرایہ دار نے دکان میں کوئی اضافہ یا بہتری کا کام نہیں کیا تو اصل کرایہ سے زیادہ کرایہ  لینا جائز نہیں  ہوگا، ہاں پہلے کرایہ دار نے اگر مالک دکان کی جانب سے طے کردہ کرایہ کے بجائےکسی اور جنس یا کرنسی میں دوسرے کرایہ دار سے کرایہ  طلب کیا ہو (مثلاًروپے میں کرایہ مقرر کرنے کے بجائے اناج یا درہم /ریال ،ڈالر کی صورت میں کرایہ مقرر  کیا ہو)تو اس صورت میں اصل کرایہ سے زائد کرایہ وصول کرنا جائز ہوگا ۔

الأصل لمحمد بن الحسن میں ہے:

"وقال أبو حنيفة: وإن أجرها بأكثر مما استأجرها فإنه يتصدق بالفضل، إلا أن يكون قد أصلح فيها شيئاً فيطيب له الفضل"

(كتاب الإجارات ،باب إجارة الدور والبيوت ،ج:3،  ص: 463،  ط:دار ابن حزم ۔بيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا استأجر دارا وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها، وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتدا أو حفر فيها بئرا أو طينا أو أصلح أبوابها أو شيئا من حوائطها طابت له الزيادة"

 (الباب السابع في إجارة المستأجر، كتاب الإجارة، ج:4،ص: 425،ط:دار الفكر بيروت)

مجلة الأحكام العدلیۃ میں ہے:

"من استحق منفعة معينة بعقد الإجارة له أن يستوفي عينها ، أو مثلها ، أو ما دونها ولكن ليس له أن يستوفي ما فوقها. مثلا: لو استأجر الحداد حانوتا على أن يعمل له فيه أي يعمل فيه صنعة مساوية في المضرة لصنعة الحداد ولكن ليس لمن استأجر حانوتا للعطارة أن يعمل فيه صنعة الحداد"

(الباب الأول في بيان الضوابط العمومية، كتاب ا الإجارات، المادة :426، ص82، ط:نور محمد)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144711101274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں