
ایک تاجر کی دکان پشاور میں واقع ہے اور وہ ٹوپی اور تسبیح کے کاروبار سے منسلک تھا، اوریہ دکان خالصتًا حکومت پاکستان / کارپوشن کمپنی کی ملکیت ہے اور مذکورہ شخص نے حکومت سے طویل المیعاد مدت یعنی سو سال کے لیے کرایہ کا معاملہ کیا تھا ، اور ایک کرایہ دار کی حیثیت سے کام کرتے رہے، اور ان کے دو بیٹے بھی ان کے ساتھ کام کرتے تھے، اب اس کا انتقال ہوچکا ہے تو اب سوال یہ ہےکہ:
مذکورہ دکان میں میراث جاری ہوگی یا نہیں؟
واضح رہے کہ مروجہ ننانوے یا سوسالہ لیزنگ کا قانون ، جسے اگرچہ لیز یعنی ”کرایہ داری“ سے موسوم کیا جاتا ہے، لیکن چوں کہ قانون کی رو سے مروجہ لیز پر زمین /دکان لینے والے شخص کو اس زمین کی خریدوفروخت وغیرہ سے متعلق مکمل اختیارات حاصل ہوتے ہیں، اور تمام مالکانہ حقوق حاصل ہوتے ہیں، البتہ لیز کی مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ لیز کروانی پڑتی ہے، اس لیے مروجہ لیز کے معاملات پر شرعاً بیع و شراء کے احکامات جاری ہوں گے، یعنی سو سالہ لیز پر زمین/دکان لینے والا شخص شرعاً اس زمین کا مالک ہوگا، اور اس شخص کے انتقال کے بعد ایسی زمین مرحوم کے ورثاء میں میراث کے شرعی ضابطے کے مطابق تقسیم ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ سرکاری محکمے سے سو سالہ طویل المدتی لیزنگ کا معاملہ کرکے لی گئی دکان میں میراث جاری ہوگی یعنی دکان لینے والے کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء میں بطور میراث تقسیم ہوگی۔
مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے:
"لأن العبرة في العقود للمعاني مجازا لا للألفاظ والمباني."
(كتاب الكفالة، أنواع الكفالة، ج:2، ص:132، ط:دار إحياء التراث العربي، بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101819
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن