بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کن حالات میں تیمم جائز ہے؟


سوال

اگر پہاڑی پر بکریاں چرانے والے کے پاس پانی موجود نہ ہو، اور نماز کا وقت ہو، نیز پانی حاصل کرنے کا راستہ دشوار ہو، تو کیا ایسی صورت میں تیمم کرکے نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ پانی نہ ہونے کی صورت  میں تیمم کرنا اس وقت جائز ہوتا ہے  جب پانی میسر ہی  نہ ہو، مثلًا  شہر سے باہر ہو اور آس پاس ایک میل تک پانی کہیں بھی دست یاب نہ ہو، یا کنواں تو ہو مگر کنویں سے پانی نکالنے کی کوئی صورت نہ ہو،  یا پانی پر کوئی درندہ بیٹھا ہو  یا پانی پر دشمن کا قبضہ ہو،  اس کے خوف کی وجہ سے پانی تک پہنچنا ممکن نہ ہو، تو ان تمام صورتوں میں  اس شخص کو گویا پانی میسر ہی نہیں ہے، ایسا شخص وضو  اور غسل کے لیے تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے، لیکن  اگر پانی میسر تو  ہو لیکن فرض نماز  کی جماعت نکلنے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں تیمم کرکے نماز ادا کرنا جائز نہیں ہوگا۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں  اگرپانی آس پاس ایک میل تک دستیاب نہ ہویامذکورہ اعذارمیں سےکوئی عذرپایاجارہاہوتواس صورت میں تیمم جائزہوگاورنہ جائز نہیں۔بعض فقہاء کرام نے ایسی صورت میں (جب کہ وقت بہت تنگ ہو اور وضو یا غسل کی صورت میں نماز کا وقت فوت ہونے کا یقین ہو) یہ حکم لکھا ہے کہ احتیاط کے پیشِ نظر فی الوقت تیمم کرکے نماز پڑھ لے(بشرطیکہ جسم ظاہری ناپاکی سے پاک ہو)،  لیکن پھر جلد ہی وضو کرکے نماز دوبارہ ادا کرے۔

الدرالمختارمیں ہے:

"(من عجز) مبتدأ خبره تيمم (عن استعمال الماء) المطلق الكافي لطهارته لصلاة تفوت إلى خلف (لبعده) ولو مقيما في المصر (ميلا) أربعة آلاف ذراع، وهو أربع وعشرون أصبعا، وهي ست شعيرات ظهر لبطن وهي ست شعرات بغل (أو لمرض) يشتد أو يمتد بغلبة ظن أو قول حاذق مسلم ولو بتحرك،أو لم يجد من توضئه، فإن وجد ولوبأجرة مثل، وله ذلك لا يتيمم في ظاهر المذهب كما في البحر... (أو برد) يهلك الجنب أو يمرضه ولو في المصر إذا لم تكن له أجرة حمام ولا ما يدفئه، وما قيل إنه في زماننا يتحيل بالعدة فمما لم يأذن به الشرع.نعم إن كان له مال غائب يلزمه الشراء نسيئة وإلا لا (أو خوف عدو) كحية أو نار على نفسه ولو من فاسق أو حبس غريم أو ماله ولو أمانة.ثم إن نشأ الخوف بسبب وعيد عبد أعاد الصلاة، وإلا لا لانه سماوي (أو عطش) ولو لكلبه أو رفيق القافلةحالا أو مآلا، وكذا العجين، أو إزالة نجس كما سيجئ.وقيد ابن الكمال عطش دوابه بتعذرحفظ الغسالة بعدم الإناء.. (أو عدم آلة) طاهرة يستخرج بها الماء ولو شاشا وإن نقص بإدلائه أو شقه نصفين قدر قيمة الماء، كما لو وجد من ينزل إليه بأجر (تيمم) لهذه الأعذار كلها."

(‌‌كتاب الطهارة،باب التيمم،ص:37،ط:دارالکتب)

فتاوی شامی میں ہے:

"وقیل: یتیمم لفوات الوقت. قال الحلبی: فالأحوط أن يتيمم ويصلي ثم يعيده..(وفی الرد)وذكر مثله العلامة ابن أمير حاج الحلبي في الحلية شرح المنية ...ما حاصله: ولعل هذا من هؤلاء المشايخ اختيار لقول زفر لقوة دليله، وهو أن التيمم إنما شرع للحاجة إلى أداء الصلاة في الوقت فيتيمم عند خوف فوته. قال شيخنا ابن الهمام ولم يتجه لهم عليه سوى أن التقصير جاء من قبله فلا يوجب الترخيص عليه، وهو إنما يتم إذا أخر لا لعذر. اهـ. وأقول: إذا أخر لا لعذر فهو عاص. والمذهب عندنا أنه كالمطيع في الرخص، نعم تأخيره إلى هذا الحد عذر جاء من قبل غير صاحب الحق، فينبغي أن يقال يتيمم ويصلي ثم يعيد الوضوء كمن عجز بعذر من قبل العباد، وقد نقل الزاهدي في شرحه هذا الحكم عن الليث بن سعد. وقد ذكر ابن خلكان أنه كان حنفي المذهب، وكذا ذكره في [الجواهر المضيئة في طبقات الحنفية] . اهـ ما في الحلية.قلت: وهذا قول متوسط بين القولين، وفيه الخروج عن العهدة بيقين فلذا أقره الشارح، ثم رأيته منقولا في التتارخانية عن أبي نصر بن سلام وهو من كبار الأئمة الحنفية قطعا، فينبغي العمل به احتياطا ولا سيما وكلام ابن الهمام يميل إلى ترجيح قول زفر كما علمته، بل قد علمت من كلام القنية أنه رواية عن مشايخنا الثلاثة، ونظير هذا مسألة الضيف الذي خاف ريبة فإنهم قالوا يصلي ثم يعيد، والله تعالى أعلم."

(كتاب الطهارة،سنن التيمم،ج:1،ص:246،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610101154

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں