
میرے چار بچے ہیں، دو بیٹے، دو بیٹیاں، (دونوں بیٹیاں ذہنی اور جسمانی مریضہ ہیں، ان کی شادی نہیں کر سکتے ) ۔اب سوال یہ ہے کہ میرے اور میری اہلیہ کے انتقال کے بعد ان دونوں بچیوں کی ذمہ داری کس پر ہو گی؟ جب کہ بچوں کے دادا، دادی، نانا، نانی وفات پا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اس کے تمام شرعی ورثاء کا اس کے ترکہ میں حصص شرعیہ کے تناسب سے حصہ ہوتا ہے،خواہ ورثاء میں سے کوئی مجنون ہو یا معذور۔لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے انتقال کے بعداس کی ذہنی و جسمانی معذور بیٹیاں اگر حیات ہوں گی ،تو ان کو سائل کے ترکہ میں سے حصہ ملے گا،البتہ ان کا حصہ ایسے شخص کے پاس رکھا جائے گا جس کو سائل ان کے لیے وصی بنا کر جائے گا( اور اصطلاح میں ’’وصی‘‘ اسےکہتے ہیں جس کو باپ نے انتقال سے پہلے مقرر کیا ہو)، خواہ وہ اپنے بیٹے کو بنائے یا خاندان میں سے کسی اور معتبر شخص کو بنائے،وہ سائل کی معذور بیٹیوں پر ان کے حصے میں سے خرچ کرتا رہے گا، اس کے لیے معذور بچیوں کا مال اپنی ضروریات میں استعمال کرنے کی شرعاًاجازت نہ ہو گی۔
نیز اگر معذور بچیوں کا مال ختم ہو جائے، تو ان کی کفالت ان کے شرعی ورثاء یعنی بھائیوں پر لازم ہو گی۔
البحر الرائق میں ہے:
"وشرطه وهو حياة الوارث بعد موت المورث."
(كتاب الفرائض، ميراث ذوي الأرحام، ج: 8، ص: 577، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"(الوالي في النكاح) لا المال (العصبة بنفسه)
وفي الرد:(قوله لا المال) فإنه الولي فيه الأب ووصيه والجد ووصيه والقاضي ونائبه فقط۔"
(كتاب النكاح،باب الولی ،ج:3 ، ص:76،ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"(و) تجب أيضا (لكل ذي رحم محرم صغير أو أنثى) مطلقا (ولو) كانت الأنثى (بالغة) صحيحة (أو) كان الذكر (بالغا) لكن (عاجزا) عن الكسب (بنحو زمانة) كعمى وعته وفلج، زاد في الملتقى والمختار: أو لا يحسن الكسب لحرفة أو لكونه من ذوي البيوتات أو طالب علم (فقيرا) ....... (بقدر الإرث) - {وعلى الوارث مثل ذلك} [البقرة: 233]- (و) لذا (يجبر عليه) . ثم فرع على اعتبار الإرث بقوله (فنفقة من) أي فقير (له أخوات متفرقات) مو سرات (عليهن أخماسا) ولو إخوة متفرقين فسدسها على الأخ لأم والباقي على الشقيق (كإرثه) وكذا لو كان معهن أو معهم ابن معسر؛ لأنه يجعل كالميت ليصيروا ورثة."
و فی الردالمحتار:
"قوله كعمى إلخ) أفاد أن المراد بالزمانة العاهة كما في القاموس. وفي الدر المنتقى أن الزمانة تكون في ستة: العمى وفقد اليدين أو الرجلين أو اليد والرجل من جانب والخرس والفلج. اهـ ....... قوله وعته) بالتحريك: نقصان العقل ....... (قوله بقدر الإرث) أي تجب نفقة المحرم الفقير على من يرثونه إذا مات بقدر إرثهم منه."
( كتاب الطلاق، باب النفقۃ، 3 / 627 (الی) 629، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101913
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن