
میرے چچا نے میرے ابو کے ساتھ بٹوارا کیا اور الگ ہو گئے،اس کے بعد انہوں نے اپنے ایک بیٹے کی شادی کی اور اسے گھر سے الگ کر دیا،اس کے بعد وہ اپنی کچھ زمین بیچتے اور اس پیسے کو اپنے ساتھ والے بیٹوں پر خرچ کرتے رہے۔اسی طرح وہ اپنی جائیداد بیچتے اور خرچ کرتے رہے۔
سوال یہ ہے کہ جس بیٹے کو گھر سے الگ کیا ہے، کیا اس پیسے میں اس کا حصہ ہوگا یا نہیں؟ اور نیز جن بیٹیوں کی شادی ہوئی ہے، کیا ان کا اس میں کوئی حصہ ہے؟ کیونکہ چچا کے مال میں تو دن بدن کمی آرہی ہے۔ اس میں رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے چچا کااپنی زندگی میں اپنے ایک بیٹے کی شادی کے اخراجات خود برداشت کرکے اسےالگ کرنا،اور اپنی کچھ جائیداد بیچ کر وہ پیسےاپنے ساتھ رہنے والے بیٹوں پر خرچ کرناجائز ہے،البتہ اگر والدین اپنی جائیداد واموال میں سے اگر اپنی اولاد کو کچھ ہبہ کررہے ہوں تو شرعاً ہبہ کرنے میں تمام اولاد میں برابری ضروری ہے ، بلا کسی شرعی بنیاد کے بعض کو دینا اور بعض کو محروم کرنا یا کمی بیشی کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے۔
لہذا اگر سائل کے چچا اگر اموال و جائیداد میں سےاپنی بعض اولاد کو کچھ دیتے ہیں اور دوسروں کو کم دیتے ہیں یا محروم کرتے ہیں یا بیٹیوں کو بالکل نہیں دیتے تو شرعاً اس عمل کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوں گے۔لہذا اگر وہ اپنی زندگی میں اپنے اموال و جائیداد میں سے کسی کو کچھ دیں تو تمام اولاد میں برابری کرنا لازم ہے ۔
البتہ اولاد میں سے کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معقول وجہ کی بناء پر بنسبت اوروں کےکچھ زیادہ دینا چاہے تو سکتا ہے ،مثلاً کسی کی کثرت شرافت ودینداری کے یا غریب ہونے یا خدمت گزار ہونے کی بناء پربنسبت اوروں کے کچھ زیادہ دینے کی گنجائش ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»"۔
(باب العطایا، الفصل الأول، ج:2، ص: 909، ط: المكتب الإسلامي)
ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)
البحر الرائق میں ہے:
"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين."
(كتاب الهبة،هبة الأب لطفلة، ج:7، ص:288، ط:دارالکتب الاسلامی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و لو وهب رجل شيئًا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.
رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الھبة، الباب السادس في الهبة للصغير، ج:4، ص:391، ط:دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے :
"ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم."
(كتاب الهبة، ج:5، ص:696، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100868
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن