بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 محرم 1448ھ 18 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید میں نسخ کی حقیقت: سورہ احزاب، آیتِ رجم اور منسوخ شدہ آیات کا پسِ منظر


سوال

 1-کیاسورہ احزاب سورہ بقرہ کی طرح طویل سورت تھی لیکن بعد میں اس کا کچھ حصہ منسوخ کیا گیا ہے؟

2-جو منسوخ ہوا وہ کونسا حصہ ہے؟جو منسوخ ہوا وہ کتنا حصہ تھا علماء صرف چند آیات بتا کر کہتے ہیں کہ یہ منسوخ ہوا ہے؟

3-اور کیوں منسوخ ہوا ؟

جواب

1- بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سورۂ احزاب ابتداءً نازل ہوئی تو اس کی آیات کی تعداد موجودہ مقدار سے کہیں زیادہ تھی، حتیٰ کہ بعض حضرات نے اسے حجم کے اعتبار سے سورۂ بقرہ کے قریب قرار دیا ہے۔ انہی آیات میں آیتِ رجم بھی شامل تھی، جس کے الفاظ یہ بیان کیے جاتے ہیں:«الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة نكالاً من الله، والله عزيز حكيم»یعنی: شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب زنا کریں تو انہیں لازماً سنگسار کرو، یہ اللہ کی طرف سے سزا ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔

بعد میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت اس سورت کے بعض حصے تلاوت کے اعتبار سے منسوخ فرما دیے۔ اس سلسلے میں حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے جسے امام احمد اور نسائی نے نقل کیا ہے اور اس کی سند حسن درجے کی ہے۔

2-واضح رہے کہ منسوخ شدہ آیات میں سے بعض ایسی تھیں جن کی تلاوت تو منسوخ ہو گئی، لیکن ان کا حکم باقی رکھا گیا، جیسا کہ آیتِ رجم کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس آیت کی تلاوت اب قرآنِ کریم میں موجود نہیں، تاہم اس کا شرعی حکم برقرار ہے اور قیامت تک نافذ رہے گا۔

البتہ جب اللہ تعالیٰ کسی آیت کی تلاوت اور اس کا حکم دونوں منسوخ فرما دیتے ہیں تو وہ آیت قرّاء و حفاظ کے سینوں سے بھی محو ہو جاتی ہے، اور امت کے لیے اس کی تلاوت، وجود اور حکم—سب باقی نہیں رہتے۔

3- واضح رہے کہ کسی سابقہ شرعی حکم کو زمانے اور حالات کی مناسبت سے دوسرے حکم سے تبدیل یا ختم کر دینا “نسخ” کہلاتا ہے۔ یہ عمل اللہ تعالیٰ کی حکمت، رحمت اور مصلحت پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ کسی قسم کی لاعلمی یا تردد پر – معاذ اللہ۔

اللہ تعالیٰ ازل سے ہر چیز کا علم رکھتے ہیں، اور وہ بہتر جانتے ہیں کہ کون سا حکم کس وقت تک نافذ رہنا چاہیے اور کب اس کی جگہ دوسرا حکم آنا چاہیے۔ نسخ کا بنیادی مقصد بندوں کے لیے آسانی، تدریجی تربیت اور شریعت کی جامعیت کا اظہار ہے۔ اس سے اسلام کے زندہ، حکیمانہ اور ہمہ گیر نظامِ ہدایت ہونے کا پہلو مزید واضح ہوتا ہے۔

نیز یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ نسخ  سے قرآنِ مجید میں تحریف کا کوئی شبہ لازم نہیں آتا، کیونکہ تحریف اس وقت کہلاتی ہے جب رسول اللہ ﷺ کے بعد یا آپ ﷺ کی اجازت کے بغیر قرآن میں کسی قسم کی کمی بیشی کی جائے۔ جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ خود نازل فرمانے والے ربِّ کریم نے اپنی حکمت کے تحت بعض آیات کی تلاوت کو منسوخ فرما دیا، اس لیے اس پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔

قرآن میں ہے:

(مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا) البقرة:106

فتح القدیر میں ہے:

"وأخرج البخاري في تاريخه عن حذيفة قال: قرأت سورة الأحزاب على رسول الله صلى الله عليه وسلم فنسيت منها سبعين آية ما وجدتها. وأخرج أبو عبيد في الفضائل وابن الأنباري، وابن مردويه عن عائشة، قالت: كانت سورة الأحزاب تقرأ في زمان النبي صلى الله عليه وسلم مائتي آية، فلما كتب عثمان المصاحف لم يقدر منها إلا على ما هو الآن."

(سورۃ الاحزاب ،ج:4،ص:299،ط:دار ابن كثير، دار الكلم الطيب - دمشق، بيروت)

تفسیر قرطبی میں ہے:

"وهي ثلاث وسبعون آية. وكانت هذه السورة تعدل سورة البقرة. وكانت فيها آية الرجم: (الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة نكالا من الله والله عزيز حكيم)، ذكره أبو بكر الأنباري عن أبي بن كعب. وهذا يحمله أهل العلم على أن الله تعالى رفع من الأحزاب إليه ما يزيد على ما في أيدينا، وأن آية الرجم رفع لفظها. وقد حدثنا أحمد بن الهيثم بن خالد قال حدثنا أبو عبيد القاسم بن سلام قال حدثنا ابن أبي مريم عن ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة قالت: كانت سورة الأحزاب تعدل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مائتي آية، فلما كتب المصحف لم يقدر منها إلا على ما هي الآن. قال أبو بكر: فمعنى هذا من قول أم المؤمنين عائشة: أن الله تعالى رفع إليه من سورة الأحزاب ما يزيد على ما عندنا. قلت: هذا وجه من وجوه النسخ، وقد تقدم في" البقرة" «1» القول فيه مستوفى والحمد لله. وروى زر قال قال لي أبي بن كعب: كم تعدون سورة الأحزاب؟ قلت ثلاثا وسبعين آية، قال: فوالذي يحلف به أبي بن كعب إن كانت لتعدل سورة البقرة أو أطول، ولقد قرأنا منها آية الرجم: الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة نكالا من الله والله عزيز حكيم. أراد أبي أن ذلك من جملة ما نسخ من القرآن. وأما ما يحكى من أن تلك الزيادة كانت في صحيفة في بيت عائشة فأكلتها الداجن فمن تأليف الملاحدة والروافض."

(سورۃ الاحزاب ،ج:14،ص:113،ط:دار الكتب المصرية - القاهرة)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"قال [عبد الله بن] الإمام أحمد : حدثنا خلف بن هشام، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم بن بهدلة، عن زر قال: قال لي أبي بن كعب: كأين تقرأ سورة الأحزاب؟ أو كأين تعدها؟ قال: قلت: ثلاثا وسبعين آية: فقال: قط! لقد رأيتها وإنها لتعادل "سورة البقرة"، ولقد قرأنا فيها: الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة، نكالا من الله، والله عليم حكيم".

ورواه النسائي من وجه آخر، عن عاصم -وهو ابن أبي النجود، وهو ابن بهدلة -به. وهذا إسناد حسن، وهو يقتضي أنه كان فيها قرآن ثم نسخ لفظه وحكمه أيضا،"

(تفسیر سورہ الأحزاب، ج:6، ص:375،ط:دار طيبة للنشر والتوزيع، الرياض - السعودية)

فتاوى لجنة الدائمة  میں ہے:

"والله سبحانه حين نسخ بعض أحكامه ببعض، ما ظهر له أمر كان خافيا عليه، ولا نشأ له رأي جديد؛ لأنه يعلم الناسخ والمنسوخ أزلا من قبل أن يشرعهما لعباده. والجديد في النسخ إنما هو إظهاره تعالى ما علم لعباده لا ظهور ذلك له على حد العبارة: (‌إنما ‌هي ‌أمور ‌يبديها ‌ولا ‌يبتديها) ."

(نسخ القرآن ، ج:3، ص:23، ط:رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء - الإدارة العامة للطبع - الرياض)

البرھان فی علوم القران میں ہے:

"هنا سؤال وهو أن يقال: ما الحكمة في رفع التلاوة مع بقاء الحكم؟ وهلا أبقيت التلاوة ليجتمع العمل بحكمها وثواب تلاوتها؟ وأجاب صاحب الفنون فقال: إنما كان كذلك ليظهر به مقدار طاعة هذه الأمة في المسارعة إلى بذل النفوس بطريق الظن من غير استفصال لطلب طريق مقطوع به فيسرعون بأيسر شيء كما سارع الخليل إلى ذبح ولده بمنام والمنام أدنى طرق الوحي"

(النوع الرابع الثلاثون، ج:2، ص:37، ط:دار إحياء الكتب العربية عيسى البابى الحلبي وشركائه)

وفیہ ایضاً:

"القرآن وقال سبحانه: {وأنزلنا إليك الذكر لتبين للناس}

وأما بالقرآن على ما ظنه كثير من المفسرين فليس بنسخ وإنما هو نسأ وتأخير أو مجمل أخر بيانه لوقت الحاجة أو خطاب قد حال بينه وبين أوله خطاب غيره أو مخصوص من عموم أو حكم عام لخاص أو لمداخلة معنى في معنى وأنواع الخطاب كثيرة فظنوا ذلك نسخا وليس به وأنه الكتاب المهيمن على غيره وهو في نفسه متعاضد وقد تولى الله حفظه فقال تعالى: {إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون}"

(النوع الرابع الثلاثون، ج:2، ص:44، ط:دار إحياء الكتب العربية عيسى البابى الحلبي وشركائه)

تفسیر حقانی میں ہے :

"یہ سورت بقول ابن عباس اور ابن الزبیر مدینه میں نازل ہوئی ہے۔ بعض روایتوں میں یہ پایا جاتا ہے کہ اس سورت میں سے بعض آیات آں حضرت صلی اللہ علیہ سلم کے عہد میں منسوخ التلاوت ہو گئی ہیں۔ گو اس سے بھی قرآن مجید پر تحریف کا الزام قائم نہیں ہو سکتا۔ کس لیے که تحریف جب ہوتی ہے کہ جب آپﷺ کے بعد قرآن میں کمی کی جاتی یا آپ ﷺکے بغیر اجازت ، اور جب کہ منزِل قرآن ہی نے کسی قدر اجزاء کو کسی حکمت سے کم کر دیا تو پھر کسی کو کیا مجال گفتگو ہے۔"

(جلد سوم،ص:596،ط:میر محمد کتب خانہ)

فقط واللہ علم


فتویٰ نمبر : 144509101896

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں