
2012ء میں میری شادی ہوئی۔ میں نے سوا دو تولہ سونا حقِ مہر کے طور پر دیا تھا۔ زندگی کے نشیب و فراز میں ضرورت کے وقت، میں نے اور میری زوجہ نے باہمی رضامندی سے گھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آدھا تولہ سونا بیچ دیا۔ میری زوجہ نے اپنی مرضی اور ضرورت کے پیشِ نظر سونا فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔
واضح رہے کہ یہ آدھا تولہ سونا بطورِ قرض نہیں لیا گیا تھا، بلکہ گھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے میری بیوی نے فروخت کیا تھا۔
بقیہ پونے دو تولہ سونا میرے سسرال والوں نے میری بیوی سے بطورِ ادھارلیا تھا، جو ابھی تک واپس نہیں کیا گیا۔ تین سال قبل میری بیوی کا انتقال ہوگیا، تاہم سسرال والوں نے اب تک وہ پونے دو تولہ سونا واپس نہیں کیا۔
میری بیوی کے علاج کے دوران میں نے اس کے علاج کے لیے لوگوں سے ڈھائی لاکھ روپے قرض لیے تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ:
میری بیوی نے جو آدھا تولہ سونا گھر کی ضروریات کے لیے فروخت کیا تھا، کیا وہ مجھے واپس کرنا ہوگا یا نہیں؟
سسرال والوں نے میری بیوی کا جو پونے دو تولہ سونا بطورِ ادھارلیا تھا، کیا ان کو اب وہ واپس کرنا ہوگا؟
میں نے اپنی بیوی کے علاج کے لیے جو ڈھائی لاکھ روپے قرض لیے تھے، کیا میں وہ رقم ترکہ (میراث) سے کاٹ کر سکتا ہوں؟
1۔صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کی بیوی نے آدھا تولہ سونا گھر کی ضروریات کے پیش نظر فروخت کیا تھا اور بطور قرض نہیں دیا تھا، تو بیوی کی جانب سے یہ تبرع اور احسان شمار ہو گا۔ شوہر پر اس کو واپس کرنا لازم نہیں ۔
2۔سائل کے سسرال والوں نے اگر واقعۃً سائل کی بیوی سے پونے دو تولہ سونا بطور ادھار لیا تھا، تو یہ مرحومہ کا قرضہ ہے جو سسرال سالوں کے ذمہ واجب الاداء ہے، اب مرحومہ کی وفات کے بعد یہ مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہو کر میراث کے شرعی ضابطہ کے تحت ورثاء میں تقسیم ہوگا، لہذا سسرال والوں پر اس سونے کی واپسی اور ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم لازم ہے۔
3۔ بیوی کے نان و نفقہ کے ساتھ ساتھ اس کے علاج ومعالجے کے اخراجات بھی دیانۃً اور اخلاقاً شوہر کے ذمہ لازم ہیں ۔ لہٰذاسائل نے اپنی بیوی کے علاج ومعالجے پر جو رقم خرچ کی ہے خواہ اپنی طرف سے کی ہو یا قرض لےکر کی ہو، یہ رقم احسان و تبرع شمار ہوگی، سائل کے لیے مذکورہ رقم کو ترکہ سے منہا کرنا جائز نہیں۔
درر الحكام في شرح مجلۃ الأحكام میں ہے:
"كما أن أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين الورثة على حسب حصصهم، كذلك يكون الدين الذي له في ذمة شخص مشتركا بينهم على حسب حصصهم."
(کتاب العاشر الشرکات، ج: 3، ص: 55، المادۃ: 1092، ط: دار الجیل)
الفقہ الاسلامی وادلتہ للزحیلی میں ہے:
"نفقات العلاج: قرر فقهاء المذاهب الأربعة أن الزوج لا يجب عليه أجور التداوي للمرأة المريضة من أجرة طبيب وحاجم وفاصد وثمن دواء، وإنما تكون النفقة في مالها إن كان لها مال، وإن لم يكن لها مال، وجبت النفقة على من تلزمه نفقتها؛ لأن التداوي لحفظ أصل الجسم، فلا يجب على مستحق المنفعة، كعمارة الدار المستأجرة، تجب على المالك لا على المستأجر، وكما لا تجب الفاكهة لغير أدم.«ويظهر لدي أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية، فلا يحتاج الإنسان غالبا إلى العلاج؛ لأنه يلتزم قواعد الصحة والوقاية، فاجتهاد الفقهاء مبني على عرف قائم في عصرهم. أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلى العلاج كالحاجة إلى الطعام والغذاء، بل أهم؛ لأن المريض يفضل غالبا ما يتداوى به على كل شيء، وهل يمكنه تناول الطعام وهو يشكو ويتوجع من الآلام والأوجاع التي تبرح به وتجهده وتهدده بالموت؟! لذا فإني أرى وجوب نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية، ومثل وجوب نفقة الدواء اللازم للولد على الوالد بالإجماع، وهل من حسن العشرة أن يستمتع الزوج بزوجته حال الصحة، ثم يردها إلى أهلها لمعالجتها حال المرض؟۔"
(باب العلاج، ج: 10، ص: 7381، ط: دار الفكر)
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"المتبرع لايرجع بما تبرع به على غيره، كما لو قضى دين غيره بغير أمره."
(کتاب المداینات، ج: 2، ص: 226، ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100899
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن