
میری 2023ء کو شادی ہوئی تھی ،ستمبر 2025ء تک میری بیوی نے میرا کوئی خیال نہیں رکھا،ہمیشہ بدتمیزی اور میری نافرمانی کی،میں اپنا کھانا خود تیار کرتا تھا،کپڑے خود دھوتا تھا،بچے کو خؤد نہلاتا تھا،اور میں نےگھر میں بیوی کے لیے دو ماسیاں رکھی تھیں ،ایک برتن دھونے کے لیے اور ایک گھر کی صفائی کے لیے ،اس کے باوجود وہ مجھ سے بد تمیزی کرتی اور لڑائی کرتی ،اور طلاق کا مطالبہ کرتی لیکن میں نہیں دیتا تھا۔
اب دو دن پہلے اس نے طلاق کا مطالبہ کیا تو میں نے اس کو"تمہیں طلاق دیتا ہوں "کے الفاظ سے طلاق دی ،پھر اس نے کہا کہ اگر آپ اپنے ماں باپ کے بیٹے ہوتو دوسری دےدو،تومیں نے "تمہیں طلاق دیتا ہوں " سےدوسری بھی دےدی ،پھر اس نے کہا کہ تم مرد نہیں ہو،طلاق دینا مرد کاکام ہےاگر مرد ہوتوتیسری بھی دےدو،تو میں نے"تمہیں طلاق دیتا ہوں "سے تیسری بھی دے دی،تو کیا میں ان طلاقوں کو دینے کی وجہ سےگناہ گار تو نہیں ہواہوں؟
میرا بچہ دو سال کا ہے،اور وہ اپنی والدہ کے پاس ہے،ہمیں اس کے تربیت پر خدشہ ہےکہ والدہ اس کا خیال نہیں رکھتی،اور اس کی نانی بھی نفسیاتی ہے،توہم بچے کے بارے میں بہت پریشان ہیں ،اور بچے کی والدہ نے اس کو پہلے دن سے ہی دودھ نہیں پلایا ،اور نہ ہی کوئی خیال رکھا اب وہ اس کاکیاخیال رکھے گی،لہٰذا ہم ان خدشات کی بناء پر اس سے بچہ لے سکتے ہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ" تمہیں طلاق دیتا ہوں " کےالفاظ کے ساتھ طلاق دی ہیں تو سائل کی بیوی تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، لہٰذا وہ سائل پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے،دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے،اب نہ ہی رجوع کی گنجائش ہے اور نہ ہی تجدید ِ نکاح کر سکتا ہے،مطلقہ اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہیں ہے، اگرحمل ہے تو بچہ کی پیدائش تک )گزار کر دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے۔
البتہ عورت کا اپنے خاوند سے بلا وجہ طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ،جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو عورت بلا کسی شرعی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے"،لہٰذا سائل کی بیوی بلا وجہ طلاق کے مطالبہ کی وجہ سے گناہ گار تو ہوئی ،لیکن اس کے مقابلہ میں سائل کو چاہیے تھا کہ صبر وتحمل سے کا م لیتا،اورایک ہی طلاق پر اکتفاء کرلیتا،چوں کہ اس کے مطالبہ پر سائل نے ایک ہی مجلس میں تین طلا قیں ایک ساتھ د دی جو کہ معصیت ہے ، لہٰذا اس بناء پر سائل بھی ایک ساتھ تین طلاق دینے کی وجہ سے گناہ گار شمار ہوگا۔
واضح رہے کہ میاں بیوی کے درمیان تفریق ہو جانے کی صورت میں بچوں کی پرورش کے متعلق شریعت کا ضابطہ یہ ہے کہ: اگر بچہ ہو تو سات سال کی عمر تک، اور اگر بچی ہو تو نو سال کی عمر تک، ماں کو اس کی پرورش کا حق حاصل ہوتا ہے۔ مذکورہ مدت مکمل ہونے کے بعد باپ کو بچے کو اپنی تحویل میں لینے کا حق حاصل ہو جاتا ہے،اورنان و نفقہ کی ذمہ داری بچے کے بالغ ہوکر کمانے کے قابل ہونے تک، اور بچی کی شادی ہونے تک، باپ کے ذمہ ہی رہتی ہے، خواہ بچہ یا بچی ماں کے پاس رہے یا باپ کے پاس۔
تاہم، اگر ماں کسی ایسے شخص سے نکاح کر لے جو بچی کے لئے غیر محرم(اجنبی) ہو، تو اس صورت میں اس کا حقِ پرورش ساقط ہو جائے گا، اسی طرح اگر کوئی اور شرعی وجہ ایسی پائی جائے جو حقِ پرورش کو ختم کر دینے والی ہو، تو ماں کا یہ حق ختم ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں پرورش کا حق بالترتیب نانی، پرنانی، دادی، پردادی، بہن، خالہ اور پھوپھی کو منتقل ہوگا، باپ کو پھر بھی مذکورہ مدت گذرنے سے پہلے بچوں کو اپنی تحویل میں لینے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً بچہ کی ماں بچے کا صحیح طریقہ سے خیال نہیں رکھتی جس کی وجہ سے بچے کی نشو نما میں یا تربیت میں نقصان واقع ہورہا ہے اور بچے کی نانی بھی نفسیاتی مرض میں مبتلا ہے اور بچے کی پرورش کی اہلیت نہیں رکھتی ، تو سائل کی والدہ اس کی پرورش کی حق دار ہیں ۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي"
(كتاب النكاح، باب الخلع والطلاق، الفصل الثانی، ج:2، ص:978، ط:المكتب الإسلامي)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 187 ط: دار الکتب العلمیة)
احكام القرآن للجصاص ميں ہے:
"عن ابن عباس فيمن طلق امرأته ثلاثا: أنه قد عصى ربه وبانت منه امرأته."
(سورة البقرة، باب ذكر الاختلاف في الطلاق بالرجال، ج:1، ص:470، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا."
(كتاب الطلاق، الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، ج:1، ص:349، ط:دار الفکر)
الدر المختار میں ہے:
"(تثبت للأم) النسبية (ولو) كتابية، أو مجوسية أو (بعد الفرقة) (إلا أن تكون مرتدة) فحتى تسلم لأنها تحبس (أو فاجرة) فجورا يضيع الولد به كزنا وغناء وسرقة ونياحة كما في البحر والنهر بحثا.
قال المصنف: والذي يظهر العمل بإطلاقهم كما هو مذهب الشافعي أن الفاسقة بترك الصلاة لا حضانة لها. وفي القنية: الأم أحق بالولد ولو سيئة السيرة معروفة بالفجور ما لم يعقل ذلك (أو غير مأمونة)ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا ۔۔۔۔۔(ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقهاأو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أب الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم (ثم) الأخت (لأب) ثم بنت الأخت لأبوين ثم لأم ثم لأب (ثم الخالات كذلك) أي لأبوين، ثم لأم ثم لأب، ثم بنت الأخت لأب ثم بنات الأخ (ثم العمات كذلك)."
(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:556،563، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير."
(كتاب الطلاق ، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:541، ط:دار الفکر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما التي للرجال فأما وقتها فما بعد الاستغناء في الغلام إلى وقت البلوغ وبعد الحيض في الجارية إذا كانت عند الأم أو الجدتين وإن كانا عند غيرهن فما بعد الاستغناء فيهما جميعا إلى وقت البلوغ.....وأما شرطهافمن شرائطها العصوبة فلا تثبت إلا للعصبة من الرجال ويتقدم الأقرب فالأقرب الأب ثم الجد أبوه وإن علا ثم الأخ لأب وأم ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم ثم ابن العم لأب."
(كتاب الحضانة، فصل في وقت الحضانة، ج:4،ص:43،، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100559
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن