بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا شیعہ اور اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے؟


سوال

کیا شیعہ اور اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے؟

جواب

شيعه كے ذبيحه كا حكم: 

" شیعہ " اگر قرآن مجید میں تحریف، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت، جبریل امین کے وحی لانے میں غلطی، اللہ تعالیٰ سے خطا کے صدور، یا اماموں کی عصمت اور نبوت سے بلند مقام ہونے کا عقیدہ رکھتاہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتاہو یا حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتاہو یا اس کے علاوہ کوئی کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو اس کاذبیحہ حلال نہیں ہوگا، اور جس  شیعہ کے عقائد کفر و شرک کی حد تک نہ پہنچتے ہوں، وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لے کر ذبح کرے، (اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام نہ لے) اس کا ذبیحہ حلال ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام". (3 / 46،کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ط:  سعید) 

اہلِ کتاب کے ذبیحہ كا حكم: 

اہلِ کتاب کا  ذبیحہ بنصِ قرآنی حلال ہے، مگر شرط  یہ ہے کہ وہ ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام نہ لے، ور نہ ان کا ذبیحہ حرام ہے۔

لہذا اگر یہود ونصاری اپنے مذہب کے اصول، پیغمبر  اور کتبِ سماویہ کو مانتے ہیں ، دہریہ، یا سائنس اور نجوم پرست نہیں ہیں، اور جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں، ذبح کے وقت اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام نہیں لیتے تو  ایسے یہود ونصاریٰ کا ذبیحہ حلال ہے اور اس کا گوشت کھانا جائز ہے۔

لیکن موجودہ  دور کے بہت سے یہود ونصاریٰ ملحد، دہریہ، سائنس پرست اور نجوم پرست ہیں، نام کے اہلِ کتاب ہیں، جب کہ ان کے اقوال وافعال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذہب سے بے زار ہیں تو ایسے یہود ونصاریٰ کو "اہلِ کتاب"  کہنا صحیح نہیں اور ان کا ذبیحہ بھی حلال نہیں؛ اس لیے حلال اور غیر مشتبہ چیز کو چھوڑ کر مشتبہ چیز اختیار نہ کی جائے، جہاں تحقیق نہ ہو تو ان کے ذبیحے سے اجتناب کیا جائے، جہاں یقین ہو وہاں ذبیحہ کھایا جاسکتاہے۔ (مستفاد:قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200723

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں