
زید کی دکان ہے جس میں کئی مرتبہ چور کو چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ، کیا صاحب دکان کیلئے چور کو حکومت کو حوالہ کیے بغیر خود مارنا جائز ہے؟ اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہ کرتی ہو تو ایسی صورت میں کیا کرے؟ اور پھرمارنے کی حد کیا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں زید چورسے صرف اپنا چوری شدہ مال واپس لینے کا حق دار ہے، باقی اس کے علاوہ خود مارنا یا اس سےکوئی جرمانہ لینادرست نہیں ہے، بلکہ اسے متعلقہ اداروں کے حوالہ کردیا جائے یا معاف کرکے اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔
نیزیہ واضح رہے کہ حدود وغیرہ کے نفاذ کی ذمہ داری شرعی اعتبار سے ریاست کی ذمہ داری ہے، جس کو نافذ نہ کرنے کی صورت میں ریاست ہی گناہ گار ہوگی،عوام یا رعایا میں سے شرعی اعتبار سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ شرعی سزاؤں کا نفاذ ماورائے عدالت از خود کرنے لگے۔
مجلۃ الأحکام العدلیة میں ہے:
"لایجوز لأحد أن یأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المادۃ: 97، ص:27، ط: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)
البحر الرائق میں ہے:
"وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل: أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."
( فصل فی التعزیر، 44/5، ط: دار الكتاب الإسلامي )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"والحد في الشريعة العقوبة المقدرة حقا لله تعالى حتى لا يسمى القصاص حدا لما أنه حق العبد ولا التعزيرلعدم التقدير كذا في الهداية وركنه: إقامة الإمام أو نائبه في الإقامة."
( کتاب الحدود، 142/2، ط: رشیدیة )
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"وأما شرائط جواز إقامتها فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام وهذا عندنا."
( کتاب الحدود، فصل فی شرائط جواز اقامة الحدود، 57/7،ط: دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144607100600
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن