بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا رمضان میں زنا کرنے والے کی توبہ قبول ہوگی؟


سوال

اگر کسی بندے نے جذبات میں آکر رمضان کی رات میں زنا کر لیا  اور وہ اللہ سے معافی مانگے ، تو کیا اللہ تعالی معاف فرما دیں گے یا   نہیں ؟اور رمضان میں زنا کی جووعید آئی ہے، اس میں یہ بھی شامل ہوگا اور معافی سے محروم رہے گا  یا نہیں؟

جواب

زنا گناہِ کبیرہ ہے،قرآن و حدیث میں اس فعلِ بد پر سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں،تاہم جس شخص سے یہ گناہِ کبیرہ  سرزد ہوا ،  اپنے اس فعل پر نادم ہوکر   اللہ کے حضورسچے دل سے توبہ کرلے اور آئندہ کے لیے اس گناہ کے نہ کرنے کاپختہ عزم کرلےتو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی توبہ قبول فرما کر اس  کومعاف فرمادیتے ہیں، اگر توبہ کے بعد پھر غلطی ہوجائے تو پھر صدقِ دل سے توبہ کی جائے، اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔

قرآن   کریم میں اللہ  تعالٰی کا ارشاد ہے:

"وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَسَآءَ سَبِيلٗا "[الإسراء: 32]

 ترجمہ: "اور زنا کے پاس بھی مت پھٹکو بلاشبہ وہ بڑی بے حیائی کی بات ہے اور بری راہ ہے۔"(بیان القرآن)

وفیہ ایضاً:

"الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُ وَاكُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذُكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدُ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ "(سورۃ النور،الآیة:2)

ترجمہ:زنا کرانے والی عورت اور زنا کرنے والا مردسوان میں سے ہر ایک کے سودرے مارو اور تم لوگوں کو ان دونوں پر اللہ کےمعاملہ میں ذرا رحم نہ آنا چاہئے اگر اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک کو حاضر رہنا چاہئے ۔"(بیان القرآن)

وفیہ ایضاً:

إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ افْتَرَى إِثْماً عَظِيماً ( النساء: 48)

ترجمہ:بیشک اللہ تعالی اس بات کو نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں جس کے لئے منظور ہو گا وہ گناہ بخشش دیں گے اور جو شخص اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے وہ بڑے جرم کا مرتکب ہوا ۔(بیان القرآن)

وفیہ ایضاً:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ[الزمر:53]

ترجمہ:"آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے (کفر و شرک کرکے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بالیقین اللہ تعالیٰ تمام (گزشتہ) گناہوں کو معاف فرمائے گا، واقع وہ بڑا بخشنے والا، بڑی رحمت کرنے والا ہے۔"(بیان القرآن)

صحیح بخاری میں ہے:

"قال النبي صلى الله عليه وسلم: لا ‌يزني ‌الزاني ‌حين ‌يزني ‌وهو ‌مؤمن، ولا يشرب الخمر حين يشرب وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن، ولا ينتهب نهبة، يرفع الناس إليه فيها أبصارهم، حين ينتهبها وهو مؤمن."

(باب: النهبى بغير إذن صاحبه.ج:2،ص: 875،ط:دار ابن كثير،دمشق)

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا ،شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو اس وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا اور چھینا جھپٹی کرتا ہے اورلوگ اس کو (کھلم کھلا) چھینا جھپٹی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں (لیکن خوف و دہشت کے مارے بے بس ہوجاتے ہیں اور چیخ و پکار کے علاوہ اس کا کچھ نہیں بگاڑتے تو اس وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔

سننِ ابنِ ماجہ میں ہے:

"عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌التائب ‌من ‌الذنب، كمن لا ذنب له»."

(كتاب الزهد، باب ذكر التوبة، 1419/2، ط: دار إحياء الكتب العربية)

ترجمہ:" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ گناہ سے (صدقِ دل سے) توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح (پاک و صاف ہوجاتا) ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔"

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101800

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں