
کہتے ہیں جب بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا ایک دانت بھی نکلا ہوا ہو تو وہ بچہ کمبخت ہوتا ہے، کیا یہ سچ ہے؟
پیدائش کے وقت بچے کے دانت نکلے ہونا نہ نحوست کی علامت ہے اور نہ کم بختی کی، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تخلیق کی ایک انوکھی کیفیت ہے۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت سے ہوتی ہے، اس لیے کسی بچے، شخص، وقت یا چیز کو منحوس یا کم بخت سمجھنا شریعت میں ناجائز اور زمانۂ جاہلیت کے عقائدِ باطلہ و توہمات میں سے ہے۔مشہور مفسر و محدث امام ضحاک رحمہ اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ جب پیدا ہوئے تو ان کے اگلے دانت نکلے ہوئے تھے اور وہ ہنستے معلوم ہوتے تھے، اسی مناسبت سے ان کا نام ضحاک (بہت ہنسنے والے) رکھا گیا۔
یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ ایسے بچے میں کوئی نحوست یا کمبختی نہیں ہوتی ، لہذا مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالی کی تقدیر پر راضی رہنےاور توہمات سے اجتناب کرنا چاہیے۔
صحیح بخاری میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا عدوى، ولا طيرة، ولا هامة، ولا صفر.»"
(کتاب الطب، باب لا ھامة، ج:7، ص:135، رقم:5757، ط:السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية)
ترجمہ:”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مرض کا اللہ کے حکم کے بغیر دوسرے کو لگنا، بدشگونی، مخصوص پرندے کی بدشگونی اور صفر کی نحوست؛ یہ ساری باتیں بے بنیاد ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔“
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وقال شارح: لا يجوز العمل بالطيرة وهي التفاؤل بالطير والتشاؤم بها، قالوا يجعلون العبرة في ذلك تارة بالأسماء، وتارة بالأصوات، وتارة بالسفوح والبروح، وكانوا يهيجونها من أماكنها لذلك، ثم البارح هو الصيد الذي يمر على ميامنك إلى مياسرك، والسانح عكس ذلك، وهذا ما ظهر لي في هذا المقام من التحقيق والله ولي التوفيق."
(كتاب الطب والرقی، باب الفأل والطیرۃ، ج:7، ص:2892، رقم:4576، ط:دار الفکر)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"وقيل أن الضحاك ولدته أمه لأربع سنين وولدته بعد ما نبتت ثنيتاه، وهو يضحك فسمي ضحاكا."
(كتاب الطلاق، باب الرجعة ۔۔۔، ج:6، ص:45، ط:دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100963
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن