بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1448ھ 21 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی کو منحوس کہنا درست ہے؟


سوال

کچھ لوگ کسی شخص کے بارے میں کہتے ہیں کہ "اس کا پاؤں بھاری ہے" یا "اس کی قسمت خراب ہے"۔ کیا اسلام میں اس قسم کے عقیدے کی کوئی حقیقت یا بنیاد موجود ہے؟میرا حال یہ ہے کہ میں جو بھی کام کرتا ہوں، اکثر اس میں نقصان ہی اٹھاتا ہوں۔ اگر کسی کے ساتھ مل کر کوئی کام کروں تو بھی نقصان ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے میرے بعض رشتہ دار کہتے ہیں کہ "اس کا پاؤں بہت بھاری ہے"۔

حال ہی میں میری شادی ہوئی، اور شادی کے تقریباً تین ماہ بعد میرے سسر صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اس پر بھی بعض لوگوں نے کہا: "دیکھا! ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ اس کا پاؤں بھاری ہے۔"کیا واقعی کسی انسان کا پاؤں بھاری یا قسمت خراب ہونے کا کوئی اسلامی تصور موجود ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر بار بار پیش آنے والے نقصانات کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

میں الحمد للہ پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتا ہوں، اپنی والدہ کا فرمانبردار ہوں، لیکن والد صاحب کے ساتھ بعض اوقات بحث و تکرار ہو جاتی ہے، خصوصاً جب وہ والدہ سے اونچی آواز میں بات کرتے ہیں۔ بعد میں مجھے اپنی غلطی کا احساس بھی ہوتا ہے اور دل میں ندامت محسوس کرتا ہوں، لیکن والد صاحب سے معافی مانگنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ بے ادبی نہ ہو، مگر پھر بھی کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ والد صاحب کے ساتھ اس طرزِ عمل کی وجہ سے مجھے زندگی میں بار بار نقصان اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو؟

براہِ کرم ایسی دعائیں اور وظائف بتا دیجیے جنہیں پڑھنے سے اللہ تعالیٰ بری تقدیر، مصیبتوں اور نقصانات سے حفاظت فرمائے، معاملات میں آسانی اور برکت عطا کرے، اور مجھے اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ان کا حقیقی فرمانبردار بنا دے۔ نیز یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ میں کون سے اعمال اختیار کروں تاکہ دنیا و آخرت میں والدین کا نیک، صالح اور اطاعت گزار بیٹا شمار ہو سکوں۔

جواب

شرعاً کسی شخص کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ اس کا "پاؤں بھاری ہے"، "یہ منحوس ہے" یا "اس کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے"، درست نہیں۔ اسلام میں نفع و نقصان، زندگی و موت، بیماری و صحت، خوش حالی و تنگ دستی سب اللہ تعالیٰ کے حکم اور تقدیر سے ہوتے ہیں۔ کسی انسان، جانور، وقت، دن یا مہینے کو بذاتِ خود نحوست کا سبب سمجھنا جاہلیت کے عقائد میں سے ہے۔ لہٰذا سائل کے سسر صاحب کے انتقال کو سائل کی شادی یا سائل کے "پاؤں بھاری" ہونے سے جوڑنا شرعاً غلط اور بے بنیاد بات ہے۔

البتہ یہ حقیقت ہے کہ بعض اوقات انسان کو مسلسل آزمائشوں، مالی نقصانات یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں؛ مثلاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش، بعض گناہوں کے اثرات، معاملات میں غلط تدبیر، حقوق العباد میں کوتاہی یا درجات کی بلندی کا سبب بننے والی آزمائش۔ اس لیے ہر نقصان کو کسی شخص کی نحوست یا قسمت کی خرابی پر محمول کرنا درست نہیں۔

جہاں تک والد صاحب کے ساتھ بحث و تکرار کا تعلق ہے تو والدین خصوصاً والد کے ساتھ بے ادبی، دل آزاری اور ان کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے۔ اگر سائل سے کبھی سخت کلامی یا بے ادبی ہو جاتی ہے تو سائل کو چاہیے کہ سچے دل سے توبہ کرے، حتی المقدور والد صاحب سے معافی مانگے، ان کے ساتھ نرم گفتگو اختیار کرے، ان کی خدمت کرے اور ان کے لیے دعا کرتا رہے۔ یہ ممکن ہے کہ والدین کی ناراضی یا ان کے حقوق میں کوتاہی انسان کی زندگی سے برکت کے اٹھ جانے کا سبب بنے، اس لیے اس معاملے کی اصلاح پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ تاہم کسی خاص نقصان کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ کہنا کہ وہ صرف اسی وجہ سے آیا ہے، بغیر دلیل کے درست نہیں۔

مصیبتوں، نقصانات اور بری تقدیر سے حفاظت کے لیے سائل کثرت سے استغفار کرے، درود شریف پڑھے، صبح و شام کے مسنون اذکار کی پابندی کرے، صدقہ دیتا رہے، صلہ رحمی کرے اور یہ دعائیں اہتمام سے پڑھے:

1.رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔

2.اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ۔

3.حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔

والدین کے لیے یہ دعا پڑھے:

رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔

اور اپنے لیے یہ دعا کرے:

رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ۔

سائل کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھے، اس پر توکل کرے، والدین کے حقوق کی ادائیگی میں مزید کوشش کرے اور ماضی کی لغزشوں پر توبہ و استغفار کرتا رہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ اس کے معاملات میں آسانی، رزق میں برکت، دل کا سکون اور والدین کی کامل رضا نصیب فرمائے گا۔

قرآن کریم میں ہے:

"مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ." (سورة التغابن: 11)

و فيه أيضا:

"وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ." (سورة البقرة: 155)

و فيه أيضا:

"وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا." (سورة الإسراء: 23)

صحیح بخاری میں ہے: 

"عن أنس بن مالك رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا عدوى ولا طيرة، ويعجبني الفأل، قالوا: وما الفأل؟ قال: كلمة طيبة."

(كتاب الطب، باب لا عدوى، ج:7، ص:139 ،رقم الحديث:5776، ط: دار طوق النجاة بيروت)

ابن رجب الحنبلی و اثرہ فی توضیح عقیدۃ السلف میں ہے: 

"وقد جاء الإسلام بتطهير القلوب من كل شوائب الشرك التي منها التطيّر بالأشخاص والأماكن والأزمان، واعتقاد أنها هي السبب في بعض ما يصيب الإنسان."

(الفصل الخامس نواقص التوحيد، المبحث الخامس مسائل متفرقة متعلقة بهذا الفصل- التطير و التشاؤم، ص: 476، ط: دار المسير الرياض) 

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100848

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں