بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عورت کے لیے کسی محرم کے بغیر سفر کرنا جائز ہے؟


سوال

کیا عورت کے لیے کسی محرم کے بغیر سفر کرنا جائز ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ عورت کے لیےمسافت ِ شرعی (سوا ستتر کلومیٹر) یا اس سے زیادہ  مسافت کا   سفر  محرم کے بغیر کرنا جائز نہیں، کیونکہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ہے  کہ کوئی عورت تین روز (یعنی شرعی مسافت) سے زیادہ سفر نہ کرےالا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا محرم ہو ۔  دوسری حدیث میں ہے کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت  بغیر محرم کے سفر کرے۔ (آپ ﷺ کا یہ مبارک ارشاد سن کر)  حاضرین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور  اس نے کہا : اے اللہ کے رسول!  میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

جمہور فقہاء نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرض حج کے لیے بھی شرعی محرم کے بغیر سفر کرنے کو نا جائز کہا ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن ابن عباس رضي الله عنهما، أنه: سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «لايخلونّ رجل بامرأة، ولا تسافرنّ امرأة إلا ومعها محرم»، فقام رجل فقال: يا رسول الله، اكتتبتُ في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرأتي حاجةً، قال: «اذهب فحجّ مع امرأتك."

(كتاب الجهاد والسير،باب: من اكتتب في جيش فخرجت امرأته حاجة،1094/3،ط:دار ابن كثير)

ترجمہ:  ’’عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ  انہوں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرمارہے تھے: کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت  بغیر محرم کے سفر کرے، تو حاضرین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول!  میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔‘‘

 

صحیح مسلم میں ہے:

"عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لايحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم»."

(كتاب الحج،باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره،975/2، الرقم:1338،ط:دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایات ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر  کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔‘‘

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100213

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں