بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

كیا نوجوان كو صدقۃ الفطر اور زكات دے سكتے ہیں


سوال

کیا نوجوان مرد کو صدقۃ الفطر یا زکوٰۃ دے سكتے ہیں؟

جواب

ہر وہ شخص جو مسلمان ہو، اور اس کی ملکیت میں (ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ضرورت اصلیہ سے زائد اتنی رقم جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے مساوی یا اس سے زائد ہو، یا سامانِ تجارت جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے مساوی یا اس سے زائد ہو، یا کچھ سونا، کچھ چاندی، یا ضرورتِ اصلیہ سے زائد نقدی یا سامانِ تجارت جن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے مساوی یا زائد ہو،) نہ ہو تو اسے زکوۃ و دینا جائز ہے۔ 

ضرورتِ اصلیہ سے مراد وہ ضروریات ہیں جو انسان کی عزت و آبرو سے متعلق ہوتی ہیں، جیسے کھانا پینا، لباس پوشاک رہائش گاہ، سواری، صاحبِ صنعت و حرفت کے اوزار سب ضرورتِ اصلیہ میں داخل ہیں۔

ارشاد باری تعالی ہے:

"إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ" الآیة.

فتاوى عالمگیری میں ہے:

"(منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة كذا في فتح القدير."

(كتاب الزكاة، الباب فی المصارف، ج: 1، ص: 187، ط: دار الفكر)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"باب مصارف الزكاة وهم الفقير وهو الذي له أدنى شيء، والمسكين الذي لا شيء له، والعامل على الصدقة يعطى بقدر عمله، ومنقطع الغزاة والحاج، والمكاتب يعان في فك رقبته، والمديون الفقير، والمنقطع عن ماله، وللمالك أن يعطي جميعهم، وله أن يقتصر على أحدهم."

(كتاب الزكاة، باب مصارف الزكاة، ج: 1، ص: 118،119، ط: دار الكتب العلمیة)  

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومصرف ‌هذه ‌الصدقة ‌ما ‌هو ‌مصرف ‌الزكاة ‌كذا ‌في ‌الخلاصة."

(كتاب الصوم، الباب الأول، ج: 1، ص: 194، ط: دار الفكر)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100883

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں