بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مستحقِ زکاۃ شخص کو زکاۃ بتا کر دینا ضروری ہے؟


سوال

1-کیا زکوٰۃ دینے والے کو بتا کر دینا چاہیے یا صرف دل میں نیت کر لینا کافی ہے کہ میں یہ زکوٰۃ دے رہا ہوں؟

2-اگر ایک خاتون کے پاس 1 تولہ سونا اور 5000 ہزار روپے ہوں تو کیا  اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی  ؟اور اگر 5000 روپے سال گزرنے سے پہلے خرچ ہو جائیں  لیکن پھر سال گزرنے کے 1 دن پہلے یا دو دن پہلے 10000 روپے کی مالک ہو جائے، تو کیا حکم ہے؟

جواب

1- صورت مسئولہ میں مستحق شخص کوزکوۃ دیتے وقت یا  زکوۃ کی رقم کو علیحدہ کرتے وقت نیت ہونا شرط ہے،  جس کو زکاۃ دی جارہی ہے اس کو  بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ پیسے زکوۃ کی مد میں  ہیں، بلکہ ہدیہ کا نام لے کر بھی زکاۃ کے پیسے دیے جاسکتے ہیں،لہذا صورتِ  مسئولہ میں کسی مستحقِ زکاۃ کو زکاۃ دیتے وقت یہ بتانا لازم نہیں ہے کہ یہ زکاۃ کی رقم ہے، بس نيت کرلینا كافي هے۔بلکہ زکوۃ کہہ کر دینے سے احتراز کرنا چاہیئے، کیونکہ اس سے مستحق زکوۃ کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے، بلکہ ہدیہ وغیرہ کہہ کر زکوۃ دینی چاہیئے۔

2-بصورتِ مسئولہ مذکورہ خاتون کے پاس جب ایک تولہ سونے کے ساتھ پانچ ہزار کی نقد رقم (بنیادی ضرورت سے زائد) سال پورا ہونے سے ایک یا دو دن پہلے آجائے، چونکہ سال کے شروع اور آخر میں نصاب پورا تھا لہذا مذکورہ خاتون پر ڈھائی فیصد زکوۃ اداکرنا لازم ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

''ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغي والقنية.''

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:171، ط: رشیدیة)

وفيه أيضاّ:

"ولو فضل من النصابين أقل من أربعة مثاقيل، وأقل من أربعين درهما فإنه تضم إحدى الزيادتين إلى الأخرى حتى يتم أربعين درهما أو أربعة مثاقيل ذهبا كذا في المضمرات. ولو ضم أحد النصابين إلى الأخرى حتى يؤدي كله من الذهب أو من الفضة لا بأس به لكن يجب أن يكون التقويمبما هو أنفع للفقراء قدرا ورواجا."

(كتاب الزكاة، الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض، ج:1، ص:178، ط: رشیدیة)

و فیہ ایضا:

"وأما شرط أدائها فنية مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب هكذا في الكنز."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:170، ط: رشیدیة)

وفیہ ایضا:

"وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة كذا في الهداية."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:175، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101531

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں