بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا مستحقِ زکاۃ شخص کو زکاۃ بتا کر دینا ضروری ہے؟


سوال

کسی کو زکاۃ دینے سے پہلے زکاۃ کا بتانا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

کسی مستحقِ زکاۃ شخص  کو زکاۃ کی رقم دیتے ہوئے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکاۃ کی رقم ہے، بلکہ مستحقِ زکاۃ  کو زکاۃ کی رقم ہدیہ، تحفہ، قرض یا کسی بھی عنوان سے دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی،  تاہم زکاۃ ادا کرنے والے کے دل میں زکاۃ   دینے کی نیت ہونا ضروری ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 171):

"ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201485

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے