بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا میرا عدالت سے خلع لینا معتبر ہے یا نہیں؟


سوال

میں نے عدالت کے ذریعہ خلع لی ہے۔ لیکن میں نے بعد میں سنا کہ یہ خلع معتبر نہیں ہے، اور خلع مدرسہ کے ذریعہ ہی لینا ہوتا ہے، یا وہی فسخ کرواتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں مَیں فتوی چاہتی ہوں تاکہ آئندہ شادی کرنا چاہوں تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔

خلع لینے کی وجہ یہ ہے کہ میرے شوہر نے مجھے جب گھر سے نکالا تو کہا ”تم جاؤ اپنے باپ کے گھر میں طلاق بھیج دوں گا“، پھر چند ماہ بعد جب میں نے اُن سے رابطہ کیا کہ مجھے لے جائیں تو انہوں نے کہا کہ میں نے شادی کر لی ہے، مگر میں تمہیں بھی نکاح میں رکھوں گا، لیکن تم اپنے باپ کے گھر ہی رہو گی، میں تمہیں لے کر نہیں جاؤں گا تو میں نے کہا کہ جب آپ نے شادی کرلی تو مجھے طلاق دے دیں کیوں کہ آپ کو تو میرے ساتھ نہیں رہنا۔ اس پر کہا کہ بچوں کی وجہ سے رکھوں گا۔ میں نے کہا ”مجھے نہیں رہنا“  تو انہوں نے کہا کہ ”میں طلاق نہیں دوں گا، تم جا کر کورٹ سے خلع لے لو“، جس کے بعد میں نے پھر اپنے شوہر سے عدالت کے ذریعہ خلع لی۔ اور عدالت نے نہ مجھ سے اور نہ ہی میرے شوہر سے کوئی دستخط لیے۔ نیز میرے شوہر اس خلع پر راضی بھی نہیں ہیں۔ عدالت میں بھی اس خلع پر نفی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن میں ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا عدالت کے ذریعہ خلع لینے سے میرا نکاح باقی ہے یا ختم ہو چکا ہے؟ اور کیا مجھ پر عدت لازم ہو چکی ہے یا نہیں؟ شریعت کی طرف سے میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ میری راہ نمائی فرمائیں تاکہ میری پریشانی ختم ہو۔

جواب

واضح رہے کہ خلع کے معتبر اور درست ہونے کےلیے عاقدین (میاں بیوی) کی رضامندی شرعاً ضروری ہوتی ہے ،چناں چہ جس خلع میں میاں بیوی دونوں کی رضامندی پائی جاتی ہے، شرعاً وہ خلع معتبر اور درست ہوگا ورنہ نہیں۔ مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً صحیح ہے کہ اس کے شوہر نے سائلہ کو یہ کہا ”میں طلاق نہیں دوں گا، تم جا کر کورٹ سے خلع لے لو“ تو شوہر کے یہ الفاظ  رضامندی پر دلالت کرتے ہیں؛ لہٰذا اس اجازت اور رضامندی کے بعد سائلہ نے عدالت سے خلع کی جو ڈگری حاصل کی ہے، شرعاً درست ہے،یہ خلع معتبر ہوگیا، اگرچہ شوہر نے بعد میں خلع کی نفی کا اظہار کیا ہو۔ پس نکاح ختم ہو گیا ہے، سائلہ عدالتی فیصلے کے بعد سے اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

المبسوط میں ہے:

"(قال): والخلع ‌جائز ‌عند ‌السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 6،ص: 173، ط: دار المعرفۃ، بیروت لبنان)

الفتاوي الهنديةمیں ہے:

"(أما تفسيره) شرعا فهو ‌رفع ‌قيد ‌النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق. (وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي. (وأما شرطه) على الخصوص فشيئان (أحدهما) قيام القيد في المرأة نكاح أو عدة (والثاني) قيام حل محل النكاح...(وأما وصفه) فهو أنه ‌محظور ‌نظرا إلى الأصل ومباح نظرا إلى الحاجة كذا في الكافي."

(کتاب الطلاق، الباب الأول في تفسيره وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه وفيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه، ج: 1، ص: 382، ط: دار الکتب العلمیۃ)

وفيه أيضاً:

"الخلع ‌إزالة ‌ملك ‌النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير...(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين. وتصح نية الثلاث فيه...إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه وفيه ثلاثة فصول، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج: 1، ص: 519، ط: دار الکتب العلمیۃ)

حاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"' (و) شرطه كالطلاق وصفته ما ذكره بقوله (وهو يمين في جانبه) لأنه تعليق الطلاق بقبول المال' (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع وإن لم تقبل لأنه طلاق بلا عوض فلا يفتقر إلى القبول اهـ."

(کتاب الطلاق، باب الخلغ، شرط الخلغ، ج: 10،ص: 66، ط: دار الثقافۃ والتراث، دمشق سوریۃ)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704101995

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں