
1-کیا مدرسہ کمیٹی کی شوری مدرسے کے لیے مہتمم کا تقرر کرسکتی ہے؟ جب کہ مدرسہ کمیٹی کے زیر انتظام چل رہا ہے اور مالی امور بھی کمیٹی کے پاس ہیں؟
2-کیا مدرسے کے مہتمم ہونے کے لیے عالم یا حافظ ہونا شرط ہے؟
3-اگر مہتمم صاحب مدرسے میں پورا وقت دیتے ہوں ، اور مدرسے کے تمام کام (جس میں مدرسے کے معاملات، قانونی معاملات دفتری امور وغیر ہ و غیره) پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے ہوں تو کیا ان کو مدرسے کے فنڈ سے مشاہرہ دینا درست نہیں ؟
1- مدرسہ کمیٹی کی شوری مدرسہ کے لیے مہتمم کا تقرر کرسکتی ہے۔ تاہم اگر بانئ مدرسہ کی طرف سے مہتمم کے تقرر کا کوئی ضابطہ طے ہے تو اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
2-مہتمم کی اہلیت کے لیے امور اہتمام سے واقف ہونا ضروری ہے، حافظ اورعالم ہونا شرعًا ضروری تو نہیں، لیکن چوں کہ مدرسے کے انتظامی اور تعلیمی امور کو بہترین طریقے سے حافظ و عالم شخص سمجھ سکتا ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ کسی حافظ و عالم کو مہتمم بنایا جائے۔ اور اگر مہتمم غیر عالم و غیر حافظ بھی ہو تو اسے چاہیے کہ تعلیمی امور میں متعلقہ اساتذہ اور ماہرینِ فن سے مشاورت کرلیا کرے۔
3- جب تک کوئی مہتمم مدرسہ کی کمیٹی کی جانب سے اہتمام کے منصب پر فائز رہے ،اور مفوضہ کام خوش اسلوبی سے انجام دیتا رہے اس وقت تک اسے خدمات کے بدلے مدرسے کے فنڈ سے تنخواہ دینا جائز ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(يستحق القاضي الأجر على كتب الوثائق) والمحاضر والسجلات (قدر ما يجوز لغيره كالمفتي) فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى."
(كتاب الإجارة،باب فسخ الإجارة،مطلب في إجارة المستأجر للمؤجر ولغيره، ج:6، ص:92،ط:سعيد)
الدر المختار میں ہے:
"(ويبدأ من غلته بعمارته)ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح"
(کتاب الوقف ،ص372، ط:دار الکتب العلمیہ)
المحيط البرهاني میں ہے:
"ومشايخ بلخ جوزوا الاستئجار على تعليم القرآن، إذا ضرب لذلك مدة أفتوا بوجوب أجر المثل قالوا: وإنما كره تعليم القرآن بالأجر في الصدر الأول؛ لأن حملة القرآن كانوا قليلاً فكان التعليم واجباً حتى لا يذهب القرآن، فأما في زماننا كثر حملة القرآن ولم يبق التعليم واجباً، فجاز الاستئجار عليه.
وذكر الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل البخاري كان المتأخرون من أصحابنا يجوزون ذلك، ويقولون إنما كان المتقدمون يكرهون ذلك لأنه كان للمعلمين عطيات من بيت المال وكانوا مستغنين عما لا بد لهم من أمر معاشهم، وقد كان في الناس رغبة في التعليم بطريق الحسبة، وللمتعلمين مروءة في المجازاة بالإحسان من غير شرط أما اليوم ليس لهم عطيات من بيت المال والتعليم يشغلهم عن اكتساب ما لا بد لهم من أمر المعاش وانقطع رغبة المعلمين في الاحتساب ومجازاة المتعلمين من غير شرط، فتجوز الإجارة ويجبر المستأجر على دفع الأجرة ويحبس بها وبه يفتى."
(کتاب الاجارات، ج: 7، ص:497، ط:دار الکتب العلمیۃ)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
إذا جعل الواقف للقائم بأمر الوقف مالا معلوما كل سنة للقيام بأمر الوقف جاز ويكلف القائم ما يفعله مثله وجاءت العادة به من عمارة الوقف واستغلاله ورفع غلاته وتفريقها في وجوه الوقف كذا في الحاوي ولا ينبغي أن يقصر في ذلك
(کتاب الوقف، الباب الخامس ،ج: 2،ص: 425، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101529
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن