بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 رمضان 1442ھ 06 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

کیا مذی ناپاک ہوتی ہے؟


سوال

کیا مذی ناپاک ہوتی ہے؟ وضو یا غسل کرنے کے بعد   مذی نکل آئے زیادہ یا کم وہ جسم اور کپڑوں پر لگے تو کیا وضو دوبارہ کرنا ہوگا؟ اور کپڑے اور جسم بھی ناپاک ہوجائے گا؟

جواب

مذی ناپاک ہے،  جب  جسم  سے   نکلے تو  وضو ٹوٹ جائے گا، دوبارہ  وضو کرنا  پڑے گا، البتہ مذی کے  نکلنے  سے غسل واجب نہیں   ہوتا، لہذا اگر غسل کے بعد    مذی  نکلے تو  صرف وضو کرنا ضروری ہے، غسل کی ضرورت نہیں۔ اور اگر   مذی کپڑے یا جسم پر   لگ جائے تو  وہ بھی ناپاک ہوجائے گا، اس کو  دھوکر پاک کرنا ضروری ہے۔

بخاری شریف میں ہے:

"عن علي قال: كنت رجلًا مذاءً فأمرت رجلًا أن يسأل النبي صلى الله عليه و سلم لمكان ابنته، فسأل، فقال: «توضأ واغسل ذكرك»."

(أخرجه البخاري في «باب غسل المذي والوضوء منه» (1/ 105) برقم (266)،ط. دار ابن كثير ، اليمامة - بيروتالطبعة الثالثة ، 1407=1987.)

سنن ابی داود میں ہے:

"عن علي رضي الله عنه قال: كنت رجلًا مذاء، فجعلت أغتسل حتى تشقق ظهري، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، أو ذكر له، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تفعل، إذا رأيت المذي فاغسل ذكرك وتوضأ وضوءك للصلاة، وإذا فضخت الماء فاغتسل."

(أخرجه أبوداود في سننه في «باب في المذي» (1/ 148، 149) برقم (206)،ط.دار الرسالة العالمية،الطبعة: الأولى، 1430 هـ= 2009 م)

بذل المجھود میں ہے:

"واتفقت العلماء على أن الغسل لا يجب لخروج المذي، وعلى أن المذي نجس, وعلى أن الأمر بالوضوء منه كالأمر بالوضوء من البول."

(کتاب الطهارة، باب في المذي (2/ 265)،ط.  مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند، الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 2006 م)

فتاوى هنديه  میں ہے:

"المذي ينقض الوضوء."

(الفتاوى الهندية: كتاب الطهارة،الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس في نواقض الوضوء (1/ 10)، ط. رشيديه، كوئته باكستان)

فقط، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200834

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں