
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے علاوہ تمام انسانوں پر فضیلت حاصل ہے، یہ اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے، اب زید یہ کہتا ہے کہ بالکل فضیلت حاصل ہے، مگر یہ کلی طور پر حاصل نہيں ہے، كيوں کہ کسی خاص عمل میں کسی بھی تابعی کو فلاں صحابی پر فضیلت حاصل ہوسکتی ہے، وہ اپنی بات کو درست قرار دینے کے لیے یہ کہتا ہے کہ دیکھو امام ابو حنیفہ ، امام مالک اور سعید بن مسیب رحمہم الله کو فقاہت کے لحاظ سے حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ پر فضیلت حاصل ہے، میں اس کی بات سے شش و پنج میں مبتلا ہوگياہوں، براہ كرم اس پر راه نمائی فرماديں؟
انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد روئے زمین پر سب سے برگزیدہ اور بلند پایہ ہستیاں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جن کی فضیلت پر قرآن و سنت اور اجماعِ امت شاہد ہیں۔ اس لیے اہلِ سنت والجماعت کا قطعی عقیدہ ہے کہ کوئی بھی تابعی، خواہ وہ کمالات و خصائص میں کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو، فضیلت و مرتبہ کے اعتبار سے ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی کے ہم پلہ نہیں ہوسکتا۔
البتہ یہ سوال کہ کیا کسی تابعی کو کسی خاص علمی یا عملی پہلو میں کسی صحابی پر برتری مل سکتی ہے؟ اس مسئلے پرعلامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نےمفصل کلام کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اصل مقصود ایمان اور اس کی کیفیت ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی براہِ راست صحبت نے صحابہ کو جس ایمان، نورانیت اور قربِ الٰہی سے نوازا، وہ کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آسکتا۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ کوئی تابعی کسی عمل یا کسی علم کے باب میں بظاہر زیادہ کمال رکھتا بھی نظر آئے، تب بھی حقیقت اور درجۂ مقصود کے اعتبار سے وہ ہرگز کسی صحابی کے مقام کو نہیں پاسکتا۔ حقیقت و کیفیت اور مقصود کے اعتبار سے ادنیٰ صحابی بھی اس سے مقدم رہے گا۔ یہی وہ فرق ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ امام ابو حنیفہؒ یا امام مالکؒ یا سعید بن المسیبؒ فقاہت کے لحاظ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں، حقیقت میں دھوکہ ہے۔ کیوں کہ ”فقاہت“ کا لفظی اور جزوی معنی لے کر اس کو کلّی فضیلت کے مقابل کھڑا کرنا اہل سنت والجماعت کے اصول کے خلاف ہے۔
قرآن مجید میں باری تعالی کا ارشاد ہے:
" وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ " (التوبة 100)
ترجمہ:”اور مہاجرین اور انصار (ایمان لانے میں سب سے) سابق اور مقدم ہیں اور (بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں الله ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس (الله) سے راضی ہوئے اور (الله تعالیٰ ان کے لیے ایسے باغ مہیا رکھتے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ( اور ) یہ بڑی کامیابی ہے ۔ “(از بیان القرآن)
حکیم الامت حضرت مولانامحمد اشرف علی تھانوی ؒبیان القرآن میں درج بالا آیت کی تفسیری فوائد میں لکھتے ہیں:
”سابقون الاولون میں سب مہاجر وانصار آگئے اور الذین اتبعوھم میں بقیہ مومنین جن میں اول درجہ تو ان کا ہے جو صحابہ ہیں گو مہاجر وانصار نہیں کیونکہ اخیر میں ہجرت فرض نہ تھی مسلمان ہوکر اپنے اپنے گھررہنے کی اجازت تھی اور دوسرا درجہ تابعین بالمعنی الاصطلاحی کا ہے پھر غیر صحابہ وغیر تابعین کا پھر خود اس اخیر درجہ میں بھی تفاوت ہے کہ تبع تابعین فضل میں اوروں سے مقدم ہیں جس طرح صحابہ میں مہاجرین وانصار دوسرے صحابہ سے افضل ہیں ۔“
(سورۃ التوبۃ، ج:2، ص:156، ط:مکتبۂ رحمانیہ)
حضرت مفتی شفیع عثمانی ؒاپنی شہرۂ آفاق تفسیر”معارف القرآن“ میں درج بالا آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
”صحابہ کرام سب کے سب بلا استثناء جنتی اور اللہ تعالیٰ کی رضاء سے مشرف ہیں :
محمد بن کعب قرظی سے کسی نے دریافت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں، انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام سب کے سب جنت میں ہیں، اگرچہ وہ لوگ ہوں جن سے دنیا میں غلطیاں اور گناہ بھی ہوئے ہیں، اس شخص نے دریا فت کیا کہ یہ بات آپ نے کہاں سے کہی، ( اس کی کیا دلیل ہے) انہوں نے فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت پڑھو : السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اس میں تمام صحابہ کرام کے متعلق بلا کسی شرط کےرضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُارشاد فرمایا ہے البتہ تابعین کے معاملہ میں اتباع باحسان کی شرط لگائی گئی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بلا کسی قید و شرط کے سب کے سب بلا استثناء رضوان الہٰی سے سرفراز ہیں ۔
تفسیر مظہری میں یہ قول نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ میرے نزدیک سب صحابہ کرام کے جنتی ہونے پر اس سے بھی زیادہ واضح استدلال اس آیت سے ہے : (آیت)لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقٰتَلُوْ آ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى، اس آیت میں پوری صراحت سے یہ بیان کردیا گیا ہے کہ صحابہ کرام اولین ہوں یا آخرین سب سے اللہ تعالیٰ نے حسنی یعنی جنت کا وعدہ فرمایا ہے ۔
اور حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جہنم کی آگ اس مسلمان کو نہیں چھو سکتی جس نے مجھے دیکھا ہے یا میرے دیکھنے والوں کو دیکھا ہے ( ترمذی عن جابر ) ۔“
(سورۃ التوبۃ، ج:4، ص:448، ط:مکتبہ معارف القرآن)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(وعن عمران بن حصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «خير أمتي قرني» ) ، أي الذين أدركوني وآمنوا بي وهم أصحابي، ( «ثم الذين يلونهم» ) ، أي يقربونهم في الرتبة أو يتبعونهم في الإيمان والإيقان وهم التابعون (ثم الذين يلونهم) ، وهم أتباع التابعين، والمعنى أن الصحابة والتابعين وتبعهم هؤلاء القرون الثلاثة المرتبة في الفضيلة، ۔۔۔ قال الطيبي: وثم فيه بمنزلة الفاء في قوله الأفضل، فالأفضل على أنه بيان لتراخي الرتبة في النزول والخير المذكور أولا، أطلق على ما اقتضاه معنى التفضيل من الاشتراك حتى انتهى إلى حد يرتفع فيه الاشتراك، فيختص بالموصوف، فلا يدخل ما بعده من قوله: (ثم إن بعدهم قوما يشهدون) : فهو حينئذ كما في قوله تعالى: {أصحاب الجنة يومئذ خير مستقرا} [الفرقان: 24] وقولك: الصيف أحر من الشتاء."
(کتاب الفضائل، ج:9، ص:3878، رقم:6010، ط:دار الفكر، بيروت)
شرح كتاب الفقہ الاکبر لملا علی قاری میں ہے:
"والحاصل أن التابعين أفضل الأمة بعد الصحابة لقوله عليه الصلاة والسلام : خير القرون قرني، ثم الذين يلونهم"
(مسئلة في بيان أفضلية التابعين، ص:207، ط:دار الکتب العلمیة)
منہاج السنۃالنبویۃ میں ہے:
"وذلك أن الإيمان الذي كان في قلوبهم حين الإنفاق في أول الإسلام وقلة أهله، وكثرة الصوارف عنه، وضعف الدواعي (4) إليه لا يمكن أحدا أن يحصل له مثله ممن بعدهم. وهذا مما يعرف بعضه من ذاق الأمور، وعرف المحن والابتلاء الذي يحصل للناس، وما يحصل للقلوب من الأحوال المختلفة."
(السبب الثالث الاعمال الصالحة، ج:6، ص:223، ط:جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية)
وفيه ايضا:
"فإن العلماء متفقون على أن جملة الصحابة أفضل من جملة التابعين، لكن هل يفضل كل واحد من الصحابة على كل واحد ممن بعدهم، ويفضل معاوية على عمر بن عبد العزيز؟ذكر القاضي عياض [وغيره] في ذلك قولين، وأن الأكثرين يفضلون كل واحد من الصحابة، وهذا مأثور عن ابن المبارك وأحمد بن حنبل وغيرهما.ومن حجة هؤلاء أن أعمال التابعين وإن كانت أكثر، وعدل عمر بن عبد العزيز أظهر من عدل معاوية، وهو أزهد من معاوية، لكن الفضائل عند الله بحقائق الإيمان الذي في القلوب. وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم: "«لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه»."
قالوا: فنحن قد نعلم أن أعمال [بعض] من بعدهم أكثر من أعمال بعضهم، لكن من أين نعلم أن ما في قلبه من الإيمان أعظم مما في قلب ذلك، والنبي صلى الله عليه وسلم يخبر أن جبل ذهب من الذين أسلموا بعد الحديبية لا يساوي نصف مد من السابقين. ومعلوم فضل النفع المتعدي بعمر بن عبد العزيز: أعطى الناس حقوقهم وعدل فيهم، فلو قدر أن الذي أعطاهم ملكه، وقد تصدق به عليهم، لم يعدل ذلك مما أنفقه السابقون إلا شيئا يسيرا. وأين مثل جبل أحد ذهبا حتى ينفقه الإنسان، وهو لا يصير مثل نصف مد؟ولهذا يقول من يقول من السلف: غبار دخل [في] أنف معاوية مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أفضل من [عمل] عمر بن عبد العزيز."
(السبب الثالث الاعمال الصالحة، ج:6، ص:226/227، ط:جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101791
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن